پیر,  12 جنوری 2026ء
صدرِ زرداری نے اسلام آباد مقامی حکومت آرڈیننس جاری کردیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت میں مقامی حکومت کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔

نئے آرڈیننس کے مطابق میٹروپولیٹن کارپوریشن کو ختم کر کے ٹاؤن کارپوریشنز قائم کی جائیں گی۔

آرڈیننس کے تحت اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے حلقوں کی حدود کے مطابق تین ٹاؤن کارپوریشنز تشکیل دی جائیں گی۔ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں اتنی یونین کونسلز ہوں گی جتنی حکومت نوٹیفائی کرے گی، جبکہ عوامی اعتراضات اور سفارشات کے بعد ٹاؤن کارپوریشن اور یونین کونسل کی حدود میں ترمیم کی جا سکے گی، تاہم الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد حدود میں تبدیلی ممکن نہیں ہوگی۔

آرڈیننس کے مطابق مقامی حکومت سے مراد یونین کونسل اور ٹاؤن کارپوریشن ہوگی، جہاں حکومت کی جانب سے ایڈمنسٹریٹر بھی تعینات کیا جا سکے گا۔ اگر کہیں مقامی حکومت فعال نہ ہو تو وہاں ایڈمنسٹریٹر تعینات کیا جائے گا۔

ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور دو ڈپٹی میئر ہوں گے۔ یونین کونسل کے چیئرمین ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبر ہوں گے۔ اس کے علاوہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں چار خواتین، ایک کسان یا ورکر، ایک تاجر یا بزنس مین، ایک نوجوان اور ایک غیر مسلم رکن شامل ہوگا۔

یونین کونسل کے جنرل ممبران کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوگا۔ یونین کونسل کو ملٹی ممبر وارڈ قرار دیا گیا ہے، جہاں ایک ووٹر ایک جنرل ممبر امیدوار کو ووٹ دے گا، جبکہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے 9 امیدوار جنرل ممبر منتخب ہوں گے۔ کامیاب امیدوار 30 دن کے اندر کسی بھی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں: عالمی ریٹنگ میں بہتری ، اسلام آباد ایئرپورٹ پاکستان کا پہلا تھری اسٹار ایئرپورٹ بن گیا

جنرل ممبران یونین کونسل کی مخصوص نشستوں پر ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے۔

بعد ازاں جنرل اور مخصوص نشستوں کے ممبران خود میں سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب بھی شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے، جو 30 دن کے اندر سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر سکیں گے۔

ٹاؤن کارپوریشن کے جنرل ممبران مخصوص نشستوں کے ارکان کا انتخاب شو آف ہینڈ کے ذریعے کریں گے، جبکہ ٹاؤن کارپوریشن کے ممبران اکثریتی ووٹ سے مشترکہ طور پر میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب کریں گے۔ میئر یا ڈپٹی میئر کا انتخاب صرف ٹاؤن کارپوریشن کا رکن ہی لڑ سکے گا۔

آرڈیننس کے مطابق مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر کو ٹیکس، فیس، کرایہ، ٹول اور دیگر چارجز عائد کرنے کا اختیار ہوگا، تاہم ہر ٹیکس تجویز کی پہلے حکومت توثیق کرے گی۔ ایڈمنسٹریٹر کی ٹیکس تجاویز حکومت کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں پیش کی جائیں گی۔

مزید یہ کہ مقامی حکومت یا ایڈمنسٹریٹر ٹیکس میں اضافہ، کمی، خاتمہ یا استثنیٰ دے سکے گا، مگر حکومت کی ہدایات پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ نئے آرڈیننس کو اسلام آباد میں بلدیاتی نظام کی تشکیل نو اور حکومتی کنٹرول مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید خبریں