اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے حالیہ بیان کے بعد کہ “پاکستان میں شراب کو قانونی حیثیت دی جا سکتی ہے”، سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید غصہ اور تنقید کی لہر دوڑ گئی ہے۔
عوام نے سابق وفاقی وزیر کی اس تجویز کو اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا۔ صارفین نے کہا کہ شراب پینا اسلام میں حرام ہے اور کسی بھی صورت میں اسے جائز قرار دینا مذہب کی توہین کے مترادف ہے۔
سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے اپنے تاثرات درج کیے۔ سیدہ سجاد نقوی نے لکھا کہ وزیر شراب کے جائز ہونے کی بات کر کے دین اسلام کی تعلیمات کو توہین پہنچا رہا ہے۔ سعید اختر نے کہا کہ شراب پینے والا گناہگار ہوتا ہے، اور اسے جائز کہنے والا کافر ہے۔ بخت جمیل نے بیان کیا کہ یہ موقف اسلام کی قدر و منزلت سے بہت دور ہے۔
رانا اعجاز نے کہا کہ پاکستان کو سعودی عرب، دبئی یا ترکی کی مثالیں نہیں اپنانا، بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور سنت ہماری رہنمائی ہیں۔ عرفان حسین گل نے کہا کہ اللہ کے نزدیک کسی عرب یا عجمی کی برتری نہیں، بلکہ تقویٰ اور پرہیزگاری اہمیت رکھتی ہے، لہٰذا حرام چیزوں کو قانونی قرار دینا ناقابل قبول ہے۔
مزید پڑھیں:ڈرامہ ”کیس نمبر9“ کے متنازع شراب نوشی سین پر عوامی غم و غصہ، پیمرا سے کارروائی کا مطالبہ
عوامی ردعمل میں یہ بھی زور دیا گیا کہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی ملک بنانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی پیروی کرنا لازمی ہے، نہ کہ دیگر ممالک کی مشابہت اختیار کرنا۔











