اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی نے وفاقی حکومت کے پانی کی تقسیم کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور صوبہ سندھ کے حقوق کا دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے اپنے ٹوئٹس میں کہا ہےکہ وفاق اور پنجاب کی صوبائی حکومت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے اور آئین کے مطابق ایک صوبے کو دیگر صوبوں کے حقوق سلب نہیں کیے جا سکتے۔
سحر کامران نے کہا کہ “پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ وفاق کی بات کی ہے، اور پاکستان کے لئے جانوں کا نذرانہ دیا ہے، لیکن آج بھی بات عوام کے حقوق کی ہے۔ وفاق اور پنجاب کی صوبائی حکومت کو ایسی گفتگو سے بچنا چاہیے جو تلخیاں بڑھائے اور تفریق پیدا کرے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “جب حکومت کو علم ہے کہ ملک میں پانی کی کمی ہے، تو وفاق کیسے سوچ سکتا ہے کہ محض چند ایلیٹس کو فائدہ پہنچانے کے لیے سندھ کے کسانوں اور ہاریوں کے حقوق کا قتل عام کیا جائے؟ سندھ تو پہلے ہی پانی کی کمی کا شکار ہے اور ہماری فصلیں پہلے ہی متاثر ہو رہی ہیں۔”
پی پی پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ کے زراعت کے شعبے پر حکومتی پالیسیوں کا گہرا اثر پڑ رہا ہے، اور پچھلے سال گندم درآمد کرنے کے باعث قومی پیداوار کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسی طرح مقامی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر کے درآمدات کو ترجیح دی گئی۔ اب حکومت کی جانب سے سندھ کے پانی پر قبضہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے کسانوں اور ہاریوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
سحر کامران نے مزید کہا کہ “پانی زندگی اور موت کا معاملہ ہے اور ہمیں اپنے کسانوں کے حقوق کی حفاظت کرنا ہوگی۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ سندھ میں پانی کی کمی کا حقیقی جائزہ لے اور پانی کی قلت سے متعلق رپورٹس کا تجزیہ کرے۔”
انہوں نے وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “یہ ناقابلِ فہم ہے کہ جولائی اور اگست میں سیلاب کے پانی سے کنالیں ریگستان کو سیراب کریں گی۔ پھر ان دو مہینوں کے بعد کیا ہوگا؟ پانی کہاں سے آئے گا؟”
مزید پڑھیں: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما این اے سحر کامران کا شہید ذوالفقار علی بھٹو کی چھیالیسویں برسی پر پیغام
رکن قومی اسمبلی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کا اجلاس بلائے تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے اور سندھ کے پانی کے حق پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔
یہ مطالبات اور تحفظات پی پی پی کی “Canal Na Manzoor” مہم کا حصہ ہیں، جس کے تحت پارٹی نے صوبوں کے حقوق اور پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے آواز اٹھائی ہے۔