امیدواروں کی بڑی تعدادنے عام انتخابات کے نتائج لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کردیئے

لاہور(روشن پاکستان نیوز)عام انتخابات 2024 میں شکست کے بعدبڑی تعدادمیں امیدواروں کی جانب سے نتیجوں کو چیلنج کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا،امیدواروں نے چیلنج کے اقدام میں یہ نکتہ اٹھا یا ہے کہ آراوزنے ان کی فتح کو شکست میں تبدیل کرنے کیلئے جھوٹے نتائج مرتب کئے ہیں اورجب تک کیس عدالت میں ہے تب تک مدمقابل امیدواروں کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کیا جائے۔

نواز شریف کی کامیابی چیلنج
لاہور میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 130 سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

مریم نواز کی کامیابی چیلنج
لاہور کے حلقہ این اے 119 سے مسلم لیگ (ن) کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

ریحانہ ڈار نے خواجہ آصف کی کامیابی چیلنج کردی
پاکستان تحریک انصاف کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار ریحانہ ڈار نے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

عطا تارڑ کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ چیلنج
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ظہیر عباس نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 127 سے مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 126 سے آزاد امیدوار ملک توقیر کھوکھر نے سیف الموک کھوکھر کی کامیابی کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنچ کردیا۔

ملک توقیر کھوکھر کی جانب سے درخواست میں ریٹرنگ افسر، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ سیف الموک کھوکھر نے فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، سیف الموک کھوکھر نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، مجھے اور میرے وکلاء کو پولیس کے ڈی ایس پی نے ریٹرننگ افیسر سے افس سے باہر نکال دیا، میری عدم موجودگی میں رزلٹ جاری کیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت دوبارہ گنتی کا حکم دے اور فارم 47 کا نتیجہ کلعدم قرار دے۔

ادھر پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 46 سیالکوٹ سے عمر ڈار کی اہلیہ اور آزاد امیدوار روبا عمر نے الیکشن نتائج کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا۔

روبا عمر نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ فارم 45 کے مطابق درخواست گزار جیت چکی تھی مگر مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں انہیں ہرا دیا گیا۔

درخواست میں بتایا گیا کہ ریٹرننگ افسر نے پولنگ ایجنٹ کی عدم موجودگی میں رزلٹ مرتب کیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

روبا عمر نے استدعا کی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے اور الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکے۔

عبدالعلیم خان کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ چیلنج
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 117 سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

آزاد امیدوار علی اعجاز کی جانب سے دائر درخواست میں ریٹرننگ افسر، الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ علیم خان فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، علیم خان نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

آزاد امیدوار نے درخواست میں استدعا کی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت دوبارہ گنتی کا حکم دے اور فارم 47 کا نتیجہ کلعدم قرار دے۔

محمود الرشید نے مخالف امیدوار کی کامیابی چیلنج کردی
پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار محمود الرشید نے مخالف امیدوار کی کامیابی اور فارم 47 کا نتیجہ لاہورہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔

میاں محمود الرشید نے مخالف امیدوار کی کامیابی کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی، درخواست میں آراو، الیکشن کمیشن، خواجہ آصف سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ خالد کھوکھر فارم 45 کے مطابق ہار چکے ہیں، خالد کھوکر نے مبینہ ملی بھگت سے فارم 47 میں خود کو فاتح قرار دیا، ریٹرنگ افسر نے مبینہ طور پر خالد کھوکھر کو فاتح قرار دیا، فارم 45 کے نتائج ہمارے پاس موجود ہیں۔

محمود الرشید نے استدعا کی کہ عدالت فارم 45 کے مطابق نتائج جاری کرنے کا حکم دے، عدالت الیکشن کمیشن کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روکنے کا حکم دے، عدالت دوبارہ گنتی کا حکم دے اور فارم 47 کا نتیجہ کلعدم قرار دے۔