پلاٹ الاٹمنٹس معاملہ،قائمہ کمیٹی نے میڈیادفاترجاکرتصدیقی عمل شروع کردیا

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز ) وفاقی وزارت اطلاعات اور فیڈرل ہاوسنگ اتھارٹی کی طرف سے صحافیوں کے کوٹہ پر بہارہ کہو ہاوسنگ، ایف چودہ اور ایف پندرہ اسکیموں میں خلافِ میرٹ اور رولز کے مغائر الاٹیوں کی متنازعہ فہرست جاری کرنے اور سینئر ترین صحافیوں کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے نیشنل پریس کلب کے متاثرہ صحافیوں کی نمائندہ ازالہ کمیٹی نے وزارت اطلاعات و نشریات اور فیڈرل ہاوسنگ اتھارٹی میں سینئر افسران سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، دونوں سیکریٹریز کو متاثرہ صحافیوں کی طرف سے تحریری درخواستیں گئیں اور اپنے تمام تحفظات سے آگاہ بھی کیا۔

وزارت اطلاعات کے ذمہ داران نے یقین دہانی کرائی کہ صحافیوں کے تحفظات کو دور کرنے کیلئے نمائندہ ازالہ کمیٹی تشکیل دی جائے گئی ہے، بعد ازاں وزارت اطلاعات کی طرف سے ازالہ کمیٹی کا نوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ پریس کلب کی نمائندہ ازالہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے ازالہ کمیٹی کا نوٹی فکیشن جاری ہونا خوش آئیند ہے، تمام متاثرہ صحافی وزارت اطلاعات کی اس ازالہ کمیٹی کے پاس اپنے کیسز ضرور جمع کرائیں۔

دریں اثناء پریس کلب کے صحافیوں کی نمائندہ ازالہ کمیٹی کے ممبران سعید چوہدری، سید شیراز گردیزی، قیصر مرزا، سردار ندیم صدیق، سعید اختر، فرحت فاطمہ، زاہد خان و دیگر نے وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات اور فیڈرل ہاوسنگ اتھارٹی کے ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ بہارہ کہو کے دونوں فیزز سمیت دیگر اسکیموں میں پلاٹ دیے جانے کے لئے مستقل میرٹ اور اہلیت کا تعین کیا جانا ہمارا اصل ہدف ہے تاکہ صحافیوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ کسی کو بھی غیر قانونی اور ناجائز الاٹمنٹس کا تحفظ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ وزارت اطلاعات کی ازالہ کمیٹی کو امیدوار صحافیوں کی صرف شکایات نہیں سننی چاہئیں بلکہ جن افراد کو رولز کے مغائر سرکاری اسکیموں میں دوہرے اور چوہرے پلاٹ دیے گئے اور جن کو سنیارٹی کی اہلیت کے مغائر سفارش وغیرہ کی بنیاد پر الاٹمنٹس کی گئیں ان کی الاٹمنٹس فوری منسوخ کرتے ہوئے ان کی جگہ سینئر ترین صحافیوں کو پلاٹ الاٹ کیے جائیں۔نیشنل پریس کلب کے صحافیوں کی نمائندہ ازالہ کمیٹی نے وزارتوں کے افسران کو آگاہ کیا کہ بہارہ کہو کے دونوں فیززاور ایف چودہ، پندرہ کی اسکیموں کیلئے جمع کرائے گئے کیسز میں جعلی سروس ریکارڈ سمیت جعلی حلف نامے بھی جمع کرانے کی شکایات ہیں لہذا وزارت اطلاعات کو چاہیے کہ تمام امیدواروں کی دستاویزات کی از سر نو تحقیقات کی جائیں اور جعلی دستاویزات جمع کرانے والوں کے نہ صرف پلاٹ منسوخ کیے جائیں بلکہ انکی رجسٹریشن بھی منسوخ کی جائے۔

صحافیوں کی نمائندہ ازالہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایسوی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے سینکڑوں صحافیوں کو ان اسکیموں سے دور رکھنا ناانصافی ہے لہذا اے پی پی کے صحافیوں کو فوری طور پر بہارہ کہو، ایف چودہ ، پندرہ سمیت تمام اسکیموں میں شامل کیا جائے۔ صحافیوں کی نمائندہ ازالہ کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ اب شعور بیدار کرنے اور حقوق کا تحفظ کرنے والی یہ تحریک رُکے گی نہیں اور نہ ہی کسی اسے صحافتی سیاسی دھڑے بندی کا شکار ہونے دیا جائے گا، خلاف میرٹ کیےگئے تمام اقدامات کے شواہد اکٹھے کیے جارہے ہیں اور عدالتوں سمیت ہر فورم پر اس کو چیلنج کیا جائے گا۔