اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ میری اہلیہ کی 2017 سے دبئی میں جائیداد تھی جو کہ 2023 میں بیچ دی گئی تھی، اہلیہ کی لندن میں بھی جائیداد ہے، دس سال پہلے میں تو پبلک آفس ہولڈر نہیں تھا۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں سب کچھ واضح ہے، بطور بزنس مین میں جہاں چاہوں گا انویسٹمنٹ کروں گا، قانونی طریقے سے بیرون ملک سرمایہ کاری کرنا غلط نہیں ہے، بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کی دبئی میں پراپرٹی ہے لیکن ان کا نام نہیں آیا، ایسا لگتا ہے کہ کچھ خاص لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے ملک میں جائز کاروبار کو بھی گالی بنایا ہوا ہے، ایف آئی اے اُن لوگوں کی ضرور تحقیقات کرے جن لوگوں نے غیر قانونی طریقے سے پراپرٹی بنائی ہے، سوری کہنا نہیں چاہیے کہ کدھر پھنس گیا ہوں آکر میری پرائیویٹ زندگی ہے، میری ساری زندگی کی کمائی کو غیر قانونی بنا رہے ہیں، میں تو اس کام پر ڈیش ڈیش کرتا ہوں، اگر ایسی چیز ہے تو بہتر ہے پھر ایسا کام نہ کروں میں کسی سوچ کے ساتھ کام کر رہا تھا۔
محسن نقوی نے کہا کہ دس سال پرانی چیز ہے اور ایک ایک چیز ڈیکلیئرڈ ہے، جس کی مرضی ہے تنقید کر لے میں جب تک ہوں ڈیلیوری پر توجہ دینی ہے، اگر کسی کو اس ڈیلیوری سے مسئلہ ہے تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا، میرا پوائنٹ یہ ہے کہ جتنی دیر کام کرو وہ کرو جو جائز ہے اور حق بنتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا ہاوسز کے بہت سارے دوستوں کا ہمیں علم ہے کہ وہاں گھر ہیں سب کچھ ہے، انکوائری صرف اس کی ہونی چاہیے جس نے ڈیکلیئر نہیں کیا یا غیر قانونی ہے، آپ یہ کہیں کہ یہ پراپرٹی لی ہے یہ ڈکلیئر نہیں کی ناجائز پیسوں سے بنی ہے، نارویجن کمپنی جس نے ان کو ٹاسک دیا تھا وہ پڑھ لیں کیا لکھا تھا کہ غیرقانونی کوئی پیسا ہے وہ بتائیں، تاثر دیا گیا کہ پراپرٹیز نکال لیں ارے بھائی الیکشن کمیشن کے گوشوارے نکالو آپ کو ویسے ہی مل جانی تھی، تاثر ایسا دیا گیا کہ پتا نہیں کیا چیز ہے اور کیا نہیں، مجھے تو کوئی بار نہیں اگر سمجھوں گا سرمایہ کاری باہر کرنی ہے یا ملک میں تو کروں گا، ان جائیدادوں پر ٹیکس ادا کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ افسوس ہوا ہر چیز موجود تھی لیکن ہائی لائٹ ایسے کیا گیا پتا نہیں کن پیسوں سے جائیدادیں آئیں، وزیراطلاعات اور خواجہ آصف نے بھی جواب دیا، مجھ سے بھی جس نے پوچھا جواب دیا، بزنس کو گالی بنایا ہوا ہے کہ جو بزنس کرتا ہے اس کو گالی سمجھو، بھارت کی ترقی کی ایک وجہ ہے وہ اپنے بزنس مین کو سپورٹ کرتا ہے، ہمارا بزنس مین زرا سی ترقی کرے ہم کہیں گے یہ تو چور ہے۔
محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد امن و امان کے معاملات صوبے دیکھتے ہیں، بہت سارے لوگ پوچھتے ہیں میں آزاد کشمیرکیوں نہیں گیا وہ 18ویں ترمیم پڑھ لیں، وزیراعظم شہباز شریف نے میٹنگ کی اس میں وزیراعظم آزاد کشمیر شامل تھے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ لوگ خوش ہیں کہ حکومت نے بروقت پیکیج کا اعلان کیا، اعلان کردہ 23 ارب روپے آزاد کشمیر حکومت کے پاس پہنچ گئے ہیں، صوبوں میں امن و امان کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے، وفاق نے امن و امان کے قیام میں صوبائی حکومت کی معاونت کرنی ہے۔
محسن نقوی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی سمجھدار آدمی ہیں انھوں نے سیاسی بات کی ہوگی، میرا نہیں خیال کوئی بھی عقلمند آدمی کسی سرکاری عمارت پر قبضے کی سوچے گا، کوئی قبضے کا سوچے گا تو اس کو اسی طرح ہینڈل کیا جائے گا۔