ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جمعیت علماء اسلام کے اکابرین مفتی فضل غفور اور قاری زین اللہ کے اعزاز میں ایک پروقار استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں جمعیت کے رہنماؤں، کارکنان اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام خیبر پختونخوا کے نائب امیر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی فضل غفور نے کہا کہ پاکستان اسلام کا مضبوط قلعہ ہے اور جے یو آئی ہمیشہ ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی محافظ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک سعودی دفاعی معاہدہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور مضبوط تعلقات کی علامت ہے اور قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمن کا سعودی قیادت کے ساتھ دیرینہ اور مستقل رابطہ ہمارے برادرانہ تعلقات کو مستحکم رکھتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کے دفاع کے لیے ہر دم تیار ہے اور جمعیت ملک و قوم اور پاک فوج کے شانہ بشانہ دفاعِ وطن کے لئے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے۔
مولانا مفتی فضل غفور نے اپنے حلقے میں انجام دئیے گئے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے خیبر پختونخوا اور بونیر میں گذشتہ برس سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی سمیت سینکڑوں یتیموں بیواؤں کیلئے گھر بنانے، ہزاروں لوگوں کو روزگار مہیا کروانے اور اقلیتی برادری سمیت بلاتفریق رنگ و نسل جو خدمتِ خلق سرانجام دی، انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت میرا مشن ہے اور میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ شفافیت اور دیانت داری کے ساتھ عوام کی فلاح کی جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قاری زین اللہ نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ایک نظریاتی تحریک ہے جو ہر دور میں قوم کی رہنمائی کرتی آئی ہے اور آئندہ بھی ہمارا مشن پورے جوش اور جذبہ سے جاری رہے گا، انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ وطنِ عزیز کی معیشت کے لیے بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور دنیا بھر میں موجود اوورسیز پاکستانی محنت، دیانت اور خدمت کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔
تقریب سے قاری ابدال ترابی، ممتاز خان، مولانا اسد اللہ، زاہد اللہ ہمدرد، عطاء اللہ مفکر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہمیشہ اسلام کی سربلندی، وطنِ عزیز پاکستان کی کامیابی اور اوورسیز پاکستانیوں کی رہنمائی اور تعاون کے لیے پیش پیش رہی ہے اور ہم اسی عزم و استقلال کو جاری رکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں گے۔
اس موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور امتِ مسلمہ کے لئے خصوصی دعاء بھی کی گئی جبکہ شرکائے تقریب کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ دیا گیا۔











