جمعرات,  29 جنوری 2026ء
لندن: برطانیہ میں پاکستانیوں کی جانب سے ہم جنس پرستی کی بنیاد پر سیاسی پناہ کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ

اسلام آباد(ارشد خان) برطانیہ میں سیاسی پناہ (Asylum) کے حوالے سے حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی شہریوں نے اس شعبے میں سب سے زیادہ درخواستیں دی ہیں۔ ماہرِ قانون قیصر باری، ایڈووکیٹ کے مطابق، ان کیسز میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جنہوں نے خود کو ایل جی بی ٹی (LGBT) ظاہر کیا اور موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

قیصر باری نے کہا کہ پاکستان میں خواجہ سراؤں کو بھی قانونی حقوق حاصل ہیں اور انہیں سرکاری ملازمتوں میں حصہ دیا گیا ہے، اس کے باوجود برطانیہ میں اسائلم کیسز کس بنیاد پر منظور کیے جا رہے ہیں، یہ سوال اہم ہے۔ انہوں نے ایک عدالتی کیس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ عدالت میں وقفے کے دوران دیگر بیرسٹرز اور ٹیم نے طنزاً پوچھا کہ آخر پاکستان سے اتنے زیادہ ایل جی بی ٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ کیوں آ رہے ہیں؟

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت فارم 47 کی پیداوار، فوج بھی ہماری ہے اور ملک بھی ہمارا، عمران خان کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے, آصف بٹ

قیصر باری نے ایل جی بی ٹی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں لیزبئین، گے، بائی سیکشوئل اور ٹرانس جینڈر شامل ہیں، جسے سادہ زبان میں ہم جنس پرستی کہا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں آزادی اظہار موجود ہے، اس لیے اس موضوع پر کھل کر بات کرنی چاہیے تاکہ عوام میں آگاہی پیدا ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ انسان چاہے برطانیہ کا شہری بن جائے یا برسوں سے وہاں مقیم ہو، اس کی شناخت اور جڑیں ہمیشہ اپنی جنم بھومی سے جڑی رہتی ہیں۔ قیصر باری نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ 26 سالوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں، لیکن آج بھی پاکستانی ٹی وی اور خبریں دیکھتے ہیں تاکہ وطن کے حالات سے باخبر رہ سکیں، کیونکہ انسان اپنی ماں اور اپنی مٹی سے ہمیشہ جڑا رہتا ہے

مزید خبریں