عدت کیس کا فیصلہ خواتین کے حقوق پر حملہ ، 49 فیصد خواتین کی زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ، بشریٰ بی بی کی حمایت میں عورت مارچ منعقد

اسلام آ باد (روشن پاکستان نیوز)سابق وزیر اعظم اور پانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کیخلاف عدالت سے فیصلہ آنے کے بعد بشریٰ بی بی کی حمایت میں عورت مارچ کی گئی جس میں کہا گیا کہ عدت کیس کا فیصلہ عورتوں کے حقوق پر حملہ ہے ، خواتین نے اپنی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کا اثرصرف بشریٰ بی بی کے اوپر ہی نہیں بلکہ ملک کی 49 فیصد عورتوںاور خاص طور پردیہاتوں میںرہنے والی خواتین اس سےسب سے زیادہ متاثر ہوں گی
کیونکہ پاکستانی سوسائٹی ، جس کے اندر عورتوں کو پہلے سے ہی کتنا دبایا گیا ہے ہر گھر کے اندر گھر کے باہرکام کی جگہوں وغیرہ پر جو عام عورتیں ہیں جن کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے یا پھر جو ایک کمزور طبقے سے آتی ہیں ورکنگ کلاس یا مڈل کلاس سےتعلق رکھتی ہیں انکو کوئی بھی آ کر کل یہ کہے گا کہ امیں نےطلاق نہیں دیا وغیرہ
مزید کہا گیا کہ ہم اپنی امید اور عورتوں کی آواز سب تک پہنچانا چاہتے ہیں کہ اس فیصلے کو اوور ٹرم کریں نہیں تو آپ اس معاشرے کی اس ملک کی عورتوں کو مزید خطرے میں ڈال دینگے

عورت مار چ میں موجود ایک اور خاتون نے کہا کہ عورت مارچ جو ہے وہ کسی پولیٹیکل پارٹی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ وہ پاکستان میں عورتوںکے حقوق کےتحفظ کےلیےفرنٹ لائنرز ہیں
انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ انتہائی شاکنگ انتہائی قابل مذمت ہے اور اس کے بہت دوررس اثرات ہو سکتے ہیں کہ یہ ہیومن تھے نہ صرف یہ کہ برفوں پر بھی اس کے اثرات ہوں گے تو یہ جو ایک فیصلہ ایا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اس. کی ایپلیکیشن پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدت کے حوالے سے.

پہلی دفعہ پاکستان کی تاریخ میں عدت کے حوالے سے کسی عورت کو سزا ہوئی اور یہ جو فیصلہ ایا ہے اس کا اثر صرف بشریٰ بی بی یا عمران خان کے اوپر نہیں ہے بلکہ پاکستان کی 49 پرسنٹ جو عورتوں کی پاپولیشن ہےآپ نے ان کے سروں پہ ویسے ہی تلوار دوبارہ لٹکانے کی کوشش کی ہےعورت مارچ کے دوران اس فیصلے کی پر زور مذمت کی گئی