جمعرات,  05 مارچ 2026ء
مستقبل کی جنگیں اسکرینوں پر لڑی جائیں گی؟

کراچی (روشن پاکستان نیوز) جنگیں اسلحے کے بجائے کی بورڈ اور کوڈ تک جا پہنچیں جس نے سوال جنم دیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں اسکرینوں پر لڑی جائیں گی؟

ماضی قدیم میں جنگیں تلواروں، نیزوں بھالوں سے لڑی جاتی تھیں۔ زمانے نے ترقی کی تو بندوق میدان جنگ میں آئی ٹینک اور توپوں نے جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیے۔

حالیہ نصف صدی کی جدید ترقی انسان کو گولہ بارود سے میزائل اور مہلک بموں حتیٰ کہ ایٹم بم تک لے گئی اور اب جنگیں اس سے بھی آگے بڑھ کر کی بورڈ اور کوڈ تک پہنچ چکی ہیں۔ جسے ہم سائبر وار فیئر کہتے ہیں۔

تیسری عالمی جنگ چھڑ چکی ہے، سابق نیٹو کمانڈر

یہ اب ایک ایسا خاموش مگر طاقتور ہتھیار بن چکا ہے جو بغیر گولی چلائے پورے نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق سائبر حملے نہ صرف معلوماتی برتری دیتے ہیں، بلکہ عوامی رائے، معیشت اور قومی سلامتی پر بھی فوری اثر ڈالتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں طاقت کا اصل معیار میزائل نہیں بلکہ ماؤس اور مانیٹر ہوں گے۔ دفاعی تنصیبات ہوں، بینکاری نظام ہو یا میڈیا نیٹ ورک، سب کچھ ڈیجیٹل دنیا سے جڑا ہوا ہےاور یہی اسے ہدف بھی بناتا ہے۔

دنیا کی بڑی طاقتیں باقاعدہ سائبر کمانڈز قائم کر چکی ہیں، جن میں یونائیٹڈ اسٹیٹ سائبر کمانڈ بھی شامل ہے، جو اس محاذ کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

حالیہ دنوں پاکستان، بھارت اور اسرائیل سے منسوب میڈیا چینلز کی ہیکنگ کے واقعات نے یہ سوال مزید اہم بنا دیا ہے کہ کیا مستقبل کی جنگیں اسکرینوں پر لڑی جائیں گی؟

مزید خبریں