اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز)کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر جناب غلام محمد صفی نے بھارتی عدلیہ کی جانب سے سینئر حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور حریت رہنما فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزائیں سنانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں، بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اپنے ایک تفصیلی بیان میں غلام محمد صفی نے کہا کہ یہ فیصلے نہ صرف سیاسی انتقام کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری منظم ریاستی جبر، عدالتی استحصال اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حریت قیادت کو جھوٹے اور من گھڑت مقدمات میں ملوث کر کے طویل سزائیں دینا دراصل کشمیری عوام کی جائز، پرامن اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی عدلیہ، جو بظاہر انصاف کی فراہمی کی ذمہ دار ہے، مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنے غیر جانبدارانہ کردار کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے اور اکثر اوقات ریاستی بیانیے کا آلہ کار بنتی نظر آتی ہے۔ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کے خلاف سنائی گئی سزائیں اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ بھارت اختلافِ رائے کو جرم بنا کر کشمیری قیادت کو خاموش کرانا چاہتا ہے
کنوینر حریت کانفرنس نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ طاقت کے استعمال، گرفتاریوں، قید و بند اور جبر و استبداد کے ہتھکنڈوں سے نہ تو کشمیری عوام کے حوصلے پست کیے جا سکے ہیں اور نہ ہی ان کی جدوجہد کو روکا جا سکا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈے کشمیری قیادت اور عوام کو مرعوب نہیں کر سکتے اور وہ اپنی جدوجہد کو ہر صورت اس کے منطقی انجام، یعنی آزادی اور حقِ خودارادیت کے حصول تک جاری رکھیں گے۔
غلام محمد صفی نے اقوام متحدہ، او آئی سی، یورپی یونین، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں بشمول ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے اپیل کی کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں، بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ یقینی بنائے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کروانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف میں تاخیر نہ صرف ظلم کو تقویت دیتی ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔
آخر میں غلام محمد صفی نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تمام سیاسی قیدیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اپنے ان رہنماؤں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے اور ان کی جدوجہد کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھائیں گے۔











