سائنسی معجزہ، ڈاکٹر نے روبوٹ کے ذریعے ڈھائی ہزار کلومیٹر دور مریض کا آپریشن کر دیا

لندن (روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں ایک سرجن نے روبوٹ کے ذریعے ڈھائی ہزار کلومیٹر دور مریض کا آپریشن کیا، جو اپنے آپ میں ایک سائنسی معجزہ ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق لندن کے ایک سرجن کا کہنا ہے کہ انھوں نے برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسے مریض کا روبوٹک آپریشن کیا ہے جو ان سے تقریباً 1,500 میل (2,400 کلومیٹر) دور جبرالٹر میں موجود تھا۔ یہ جدید روبوٹک ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک تاریخ ساز سرجری ہے۔

نمایاں روبوٹک یورولوجیکل سرجن پروفیسر پروکر داس گپتا نے کہا کہ جب وہ پال بکسن کی پروسٹیٹ نکالنے کی سرجری کر رہے تھے تو انھیں ’’ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں خود وہیں موجود ہوں۔‘‘ کینسر کے مریض 62 سالہ پال بکسن نے کہا کہ اس تجربے میں حصہ لینا اور ’’طبی تاریخ کا حصہ بننا‘‘ ان کے لیے بالکل آسان فیصلہ تھا۔

امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں دور سے کی جانے والی روبوٹک سرجری مریضوں کو علاج کے لیے سفر کرنے کی ’’بھاری لاگت اور تکلیف‘‘ سے بچا سکے گی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں تک بہتر طبی سہولیات پہنچانے میں مدد دے گی۔

سرجن پروفیسر پروکر داس گپتا

برطانیہ کے سرجن اس سے پہلے بھی ٹیلی سرجری میں اہم پیش رفت کا حصہ رہ چکے ہیں، جن میں 4,000 میل کے فاصلے پر بحرِ اوقیانوس کے آر پار ایک روبوٹک فالج کی سرجری شامل ہے، جو ایک لاش (ایسے شخص کا جسم جس نے خود کو سائنسی تحقیق کے لیے عطیہ کیا ہو) پر کی گئی تھی۔ اس تجربے نے ثابت کیا تھا کہ طویل فاصلے سے سرجری تکنیکی طور پر ممکن ہے۔

پال بکسن اصل میں انگلینڈ کے علاقے برنہم آن سی، کاؤنٹی سمرسیٹ کے رہنے والے ہیں، مگر وہ 40 سال پہلے جبرالٹر منتقل ہو گئے تھے۔ جبرالٹر برطانیہ کا ایک بیرونِ ملک علاقہ ہے، جہاں صرف ایک اسپتال موجود ہے، سینٹ برنارڈ اسپتال جو یوروپورٹ میں واقع ہے۔ اس وجہ سے زیادہ پیچیدہ طبی مسائل رکھنے والے رہائشیوں کو اکثر علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنا پڑتا ہے، اور اگر وہ اہل ہوں تو عموماً برطانیہ جا کر نیشنل ہیلتھ سروس کے تحت علاج کرواتے ہیں۔

کرسمس کے فوراً بعد جب بکسن کو اچانک پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تو انھیں توقع تھی کہ انھیں این ایچ ایس کی انتظار کی فہرست میں شامل ہونا پڑے گا۔ تاہم ایک آزمائشی پروگرام کے تحت دور سے کی جانے والی اس سرجری کے پہلے مریض بننے کا موقع ملنے پر انھوں نے فوراً ہامی بھر لی۔

ٹرانسپورٹ کمپنی کے مالک بکسن نے کہا ’’اگر میں جبرالٹر میں ٹیلی سرجری نہ کرواتا تو مجھے لندن پرواز کر کے جانا پڑتا، این ایچ ایس کی انتظار کی فہرست میں شامل ہونا پڑتا، پھر آپریشن کروانا پڑتا اور غالباً مجھے تین ہفتے لندن میں رہنا پڑتا۔‘‘

برطانیہ میں غیرملکی مجرموں کیخلاف کریک ڈاؤن، داخلہ بند ، ویزے منسوخ ہونگے

بکسن نے بتایا کہ 11 فروری کو ہونے والے آپریشن کے بعد ان کی بہت اچھی دیکھ بھال کی گئی اور وہ اب بہت بہتر اور شان دار محسوس کر رہے ہیں۔

یہ آپریشن دی لندن کلینک سے کیا گیا، جہاں ایک ایسے روبوٹ کے ذریعے سرجری انجام دی گئی جس میں تھری ڈی ایچ ڈی کیمرا اور چار بازو نصب تھے۔ یہ تمام نظام ایک کنسول کے ذریعے کنٹرول کیا جا رہا تھا اور اس میں صرف 0.06 سیکنڈ کی تاخیر تھی۔ برطانیہ میں موجود کنسول کو فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے جبرالٹر میں موجود روبوٹ سے منسلک کیا گیا تھا، جب کہ بیک اَپ کے طور پر 5G رابطہ بھی موجود تھا۔

جبرالٹر میں ایک طبی ٹیم ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار حالت میں موجود تھی تاکہ اگر رابطہ منقطع ہو جائے تو وہ فوری مداخلت کر سکے، تاہم پورے آپریشن کے دوران رابطہ برقرار رہا۔ اس سرجری میں ٹو مائی روبوٹک سسٹم استعمال کیا گیا، جو دی لندن کلینک اور جبرالٹر ہیلتھ اتھارٹی کے باہمی تعاون سے انجام دی گئی۔

واضح رہے کہ یہ دو آزمائشی کیسز میں سے پہلا تھا۔ دوسرا کیس 4 مارچ کو ایک 52 سالہ شخص پر کیا گیا، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، اور وہ بھی جبرالٹر میں تھا۔ داس گپتا 14 مارچ کو ایک بار پھر یہی سرجری کریں گے، جسے براہِ راست نشر کیا جائے گا تاکہ یورپی ایسوسی ایشن آف یورولوجی کے کانگریس میں شریک دنیا کے 20,000 ممتاز یورولوجیکل سرجن اسے دیکھ سکیں۔

نیشنل ہیلتھ سروس اس وقت مقامی سطح پر روبوٹ کی مدد سے کی جانے والی سرجری کو ترجیح دے رہی ہے اور اس کا ہدف ہے کہ 2035 تک ہر سال 5 لاکھ آپریشن روبوٹ کی مدد سے کیے جائیں۔

مزید خبریں