جمعرات,  29 جنوری 2026ء
ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات، جو چند ہفتے پہلے ظاہر ہو جاتی ہیں

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ہارٹ اٹیک دنیا بھر میں ایک اہم صحت کا مسئلہ ہے اور ہر سال لاکھوں افراد اس کا شکار ہوتے ہیں، خوش قسمتی سے دل کے دورے کی ابتدائی علامات اکثر پہلے ہی ظاہر ہو جاتی ہیں، اور اگر انہیں بروقت پہچان لیا جائے تو دل کو شدید نقصان پہنچنے سے قبل علاج ممکن ہو سکتا ہے۔

ماہرینِ کارڈیالوجسٹ کے مطابق اگر دل کے دورے کی ابتدائی علامات محسوس ہوں تو انہیں ہرگز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ علامات بروقت علاج حاصل کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں، جو ایک زیادہ شدید دل کے دورے کو روک سکتا ہے۔ ابتدائی علاج کے ذریعے علامات کی اصل وجہ کا علاج کیا جا سکتا ہے اور دل کو دیرپا نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

دل کے دورے کی عام ابتدائی علامات

ابتدائی علامات ہر فرد میں مختلف ہو سکتی ہیں، کچھ لوگوں میں صرف چند علامات ظاہر ہوتی ہیں، جبکہ بعض میں زیادہ علامات سامنے آتی ہیں۔ یہ علامات ہلکی ہو سکتی ہیں یا بار بار ظاہر ہو سکتی ہیں، اور دنوں یا ہفتوں کے دوران شدت اختیار کر سکتی ہیں:

۔ سینے میں بھاری پن یا دباؤ

۔ ایک یا دونوں بازوؤں میں درد یا بے آرامی

۔ جبڑے میں درد

۔ شدید تھکاوٹ یا کمزوری

۔ بے چینی یا اضطراب کا احساس

۔ متلی یا الٹی جیسا احساس

۔ پیٹھ کے اوپری حصے میں درد

۔ سانس لینے میں دشواری

۔ سینے میں جلن، دباؤ، درد یا سکڑن

مرد اور خواتین میں علامات کا فرق

مرد: عموماً درد یا سنسناہٹ سینے کے بائیں جانب یا بائیں بازو میں محسوس ہوتی ہے۔

خواتین: درد یا سنسناہٹ دائیں جانب، گردن، جبڑے یا پیٹھ تک بھی پھیل سکتی ہے۔ خواتین میں اکثر شدید تھکن، چکر آنا یا متلی کی علامات بھی سامنے آتی ہیں۔ بعض اوقات خواتین ان علامات کو معدے کی خرابی، ہاضمے کے مسئلے یا فلو سمجھ لیتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق خواتین دل کے دورے کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنے کے لیے مردوں کی نسبت کم رجوع کرتی ہیں، جس کے باعث خطرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

شعبہ صحت میں بہتری کے لیے انقلابی فیصلے

فوری اقدامات

دل کے دورے کے ابتدائی دو گھنٹوں کے دوران تقریباً 85 فیصد تک نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے علامات کی فوری پہچان اور بروقت اقدام نہایت ضروری ہے:

۔ اپنے یا کسی اور میں دل کے دورے کی علامات پر فوری توجہ دیں۔

۔ کسی بھی شک کی صورت میں فوراً طبی امداد حاصل کریں۔

۔ ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز (EMTs) اسپتال پہنچنے سے قبل ابتدائی علاج شروع کر سکتے ہیں اور اگر دل کام کرنا بند کر دے تو اسے بحال کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

ہارٹ اٹیک کے خطرات اور عوامل

دل کے دورے کے خطرے کو بڑھانے والے کئی عوامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو طرزِ زندگی میں تبدیلی کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے:

۔ سینے میں بار بار درد، دباؤ یا جلن

۔ خاندانی تاریخ میں دل کی بیماری

۔ ہائی بلڈ پریشر

۔ زیادہ وزن یا موٹاپا

۔ سست یا غیر فعال طرزِ زندگی

۔ تمباکو نوشی

۔ ذیابیطس یا دیگر میٹابولک بیماریاں

خواتین میں: پیدائشی پیچیدگیاں، پری ایکلیمپسیا، حمل کے دوران ذیابیطس یا کم وزن بچے کی پیدائش

ہارٹ اٹیک میں کیا ہوتا ہے؟

دل کا بنیادی کام خون کو جسم کے تمام حصوں تک پمپ کرنا ہے۔ دل کو خود بھی کام کرنے کے لیے آکسیجن سے بھرپور خون درکار ہوتا ہے، جو کورونری شریانوں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔ جب یہ خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے تو دل کے پٹھوں کو نقصان پہنچتا ہے، جسے طبی زبان میں مایوکارڈیل انفارکشن  اور عام زبان میں دل کا دورہ کہا جاتا ہے۔

اگر دل اچانک خون پمپ کرنا بند کر دے تو یہ کیفیت کارڈیک ارسٹ  کہلاتی ہے۔

ہارٹ اٹیک کی ایک عام وجہ شریانوں میں کولیسٹرول کے جمع ہونے  کے باعث رکاوٹ پیدا ہونا ہے۔ یہ جمع شدہ مادہ  ٹوٹ کر خون کے لوتھڑے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو شریان بند کر کے دل کے دورے یا فالج کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید خبریں