اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ورکرز ویلفیئر فنڈ (WWF) کے حالیہ فیصلے نے ملک بھر میں مزدور طبقے میں شدید تشویش اور غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ آل پاکستان آئل اینڈ گیس ایمپلائز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اور آل پاکستان ٹریڈ یونین کانگرس کے چیئرمین سید اعجاز بخاری ملک ممتاز جنرل سیکٹری اوجی ڈی سی ایل سی بی اے شرافت اللہ خان توقیر اختر ،چوہدری ارمغان افضل، نوید اسلم نے اس فیصلے کو “مزدور دشمن” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق WWF کی گورننگ باڈی کے 166ویں اجلاس میں ایک نئی پالیسی متعارف کروائی گئی ہے، جس کے تحت تعلیمی سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے طلبہ کے لیے 60 فیصد اور 80 فیصد نمبروں کی شرط عائد کر دی گئی ہے۔ مزدور رہنماؤں کے مطابق یہ شرط غریب مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔
سید اعجاز بخاری کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایک سادہ اور منصفانہ اصول رائج تھا، جس کے تحت کسی بھی طالب علم کو کالج یا یونیورسٹی میں داخلہ ملنے پر اس کی فیس WWF ادا کرتا تھا۔ تاہم نئی پالیسی اس سہولت کو محدود کر رہی ہے، جو کہ تعلیم کے بنیادی حق کے منافی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں داخلہ پہلے ہی سخت مقابلے اور ٹیسٹوں کے ذریعے ہوتا ہے، ایسے میں اضافی نمبروں کی شرط مزدور طبقے کے بچوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرے گی۔
دوسری جانب، ورکرز نمائندگان پیر محمد کاکڑ، محسن تاج اور زاہد بٹھو نے اس فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال نے WWF کی گورننس اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مزدور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ یہ فنڈ مزدوروں اور آجران کی محنت کی کمائی سے قائم ہے، اس لیے اس پر کسی بیوروکریسی کا یکطرفہ کنٹرول قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پالیسی طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کرے گی۔
انہوں نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 25-A اور آرٹیکل 37(b) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی کی پابند ہے، لہٰذا یہ فیصلہ آئینی تقاضوں سے متصادم ہے۔
مزید برآں، سیلف ایجوکیشن اسکیم کو بھی محدود یا ختم کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، جس سے مزدوروں کے لیے خود تعلیم حاصل کرنے کے مواقع بھی کم ہو جائیں گے۔
آخر میں مزدور تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
متنازع تعلیمی پالیسی کو فوری طور پر واپس لیا جائے
داخلہ کی بنیاد پر فیس ادائیگی کا سابقہ نظام بحال کیا جائے
سیلف ایجوکیشن اسکیم کو مکمل طور پر بحال کیا جائے
مزدور رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلے پر نظرثانی نہ کی گئی تو وہ احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالتوں سے بھی رجوع کریں گے۔











