پیر,  06 اپریل 2026ء
جے سالک کچی آبادیوں کی جبری بیدخلی اور وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کیخلاف احتجاج

موجودہ حالات میں غریب لوگوں کو بے گھر کرنا “ملک دشمنی” کے مترادف ہے، جے سالک

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سابق وفاقی وزیر جے سالک کااسلام آباد کی پانچ مسیحی کچی آبادیوں کی جبری بیدخلی اور وفاقی آئینی عدالت کے کم سن مسیحی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں کیساتھ شادی کے فیصلے کیخلاف عوامی چرچ رمشا کالونی ایچ نائن میں پانچ گھنٹے تک سر میں خاک ڈال کرپر امن احتجاج ، احتجاج میں کچی آبادیوں کے مرد و خواتین،بچوں اور بوڑھوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر سابق وفاقی وزیر جے سالک کا کہنا تھا کہ ریاست انکے حقوق کا عملی تحفظ یقینی بنائے، متا ثرہ خاندانوں کو متبادل رہائش فراہم کیے بغیر بے دخل کرنا غیر انسانی اقدام اورموجودہ حالات میں غریب لوگوں کو بے گھر کرنا “ملک دشمنی” کے مترادف ہے۔تقریباً 4 ہزار خاندانوں اور 20 ہزار سے زائد افراد بے دخلی کے خطرے سے دوچار ہیں۔صدر، وزیر اعظم اور دیگر اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئےجے سالک نے مزید کہا کہ کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور غریب لوگوں کے “سروں سے چھت نہ چھینی جائے”، جبری بے دخلی فوری طور پر روکی جائے،متاثرین کو مناسب متبادل رہائش اور معاوضہ دیا جائے،اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانونی اور عدالتی اقدامات کیے جائیں،مسائل کا حل آئینی اور جمہوری طریقے سے نکالاجائے،جے سالک نے اس معاملے کو صرف رہائش کا نہیں بلکہ انسانی اور اقلیتی حقوق کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کو “ماں جیسا کردار” ادا کرتے ہوئے کمزور طبقات کا تحفظ کرنا چاہیے، مسیحی برادری پرامن شہری ہے اور انہیں بے گھر کرنے کے بجائے باعزت رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں،کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن فوری روکا جائےمکینوں کو مالکانہ حقوق دئیے جائیںمتبادل رہائش اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیںاقلیتی برادریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے پراپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے جے سالک کا مزید کہنا تھا کہ کیا یہ عدالت واقعی کمزور طبقات اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرے گی؟ عدالتی ڈھانچے میں تبدیلی سے انصاف تک رسائی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں