منگل,  31 مارچ 2026ء
کم عمر مسیحی بچی کیس: یونائٹڈ کونسل آف چرچز کا سخت ردعمل، ملزم کیلئے 15 سال سزا کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)یونائٹڈ کونسل آف چرچز نےتیرہ سالہ کم عمر مسیحی بچی ماریہ کو ورغلا کر نکاح کرنے والے شہریار نامی شخص کو مسیحی قوم کا مجرم قرار دیتے ہوئے اسے کم ازکم پندرہ برس قید کی سزا دینے اور 18 سال سے کم عمر بچوں کے مذہب کی تبدیلی کو ناقابل قبول قرار دیا ہے،مسیحی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مسیحی اس ملک کے پر امن اور محب وطن شہری ہیں اور آئین پاکستان کا مکمل احترام کرتے ہیں،لاہور کی رہائشی تیرہ سالہ کم عمر مسیحی بچی ماریہ بی بی کیس میں ملزم شہریارکو وفاق آئینی شرعی عدالت کی طرف سے سنائی جانے والے چھ ماہ کی قید کی سزا کو عوامی عدالت میں پیش کرتے ہیں،مسیحی قوم سے زیادتی کا ازالہ کیا جائے،اس بات کا اعلان یونائٹڈ کونسل آف چرچز کے زیر اہتمام یونیورسل گاسپل اسمبلی چرچ جی سیون اسلام آباد میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا گیا، پریس کانفرنس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونائٹڈ کونسل آف چرچز پادری سیمسن سہیل، بشپ طارق جان، بشپ شاہد محمود، بشپ فرخ جاوید،پادری عمانوئیل اقبال، پادری ذوالفقار دانش، سینئر پادری عنایت جلال، بشپ امجد بہادر سمیت دیگر مذہبی مسیحی رہنماؤں اور چرچ لیڈرز نے شرکت کی،پریس کانفرنس میںمسیحی رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ اس طرح کے قوانین پر غوروخوض کیلئے کونسل بنائی جائے گی، اس کیس میں اصل ملزم وکیل ہے جس نے متاثرہ بچی کے والدین کو غلط گائیڈ کیا اور کیس سپریم کورٹ میں لے جانے کے بجائے ڈائریکٹ وفاقی آئینی عدالت میں چلا گیا، یونائٹڈ کونسل آف چرچز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاسٹر سیمسن سہیل نے کہا کہ مسیحی اس ملک کےمحب وطن اور پرامن شہری ہیں لہذاٰ اس کیس کو یو این او میں لے جا کر ملک کی بدنامی کا سبب نہیں بنیں گے بلکہ اس کیس میں مجرم کو دی جانے والی سزا کو عوامی عدالت میں پیش کرتے ہیںاور عدالت سے درخواست کرتے ہیں کہ مجرم کی سزا کو چھ ماہ سےبڑھا کر پندرہ سال کیا جائے اور مذہب کی تبدیلی کیلئے کم از کم عمر اٹھارہ سال کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی اس طرح کے عمل کی جرآت نہ ہو سکے، پریس کانفرنس میں کچی آبادیوں میں سی ڈی اے کی جانب سے آپریشن کے اعلانات کر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا گیا۔

مزید خبریں