اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دنیا بھر کے مسیحی آج کھجوروں کےاتوار کا دن خوشی سے منا رہے ہیں ، لیکن اسلام آباد کے کچی آبادی کے مسیحی مکین انتہائی دکھ سے حکام سے درمندانہ اپیل کر رہے ہیں کہ ان کے سر چھت نہ چھینی جائے۔ رمشا کالونی اور مسکین کالونیوں سمیت بیشتر دیگر کالونیوں کے ہزارو ں رہائشوں نے مقامی مذہبی راہنماؤں او ر سابق وفاقی وزیر ، جے سالک کی قیادت میں مذہبی ریلیوں کا اہتمام کیا ۔ مذہبی راہنماؤں نے تمام حاضرین کو درس دیا کہ آج کا دن تاریخی حوالے سے ہمیں عجز و انکساری سکھاتاہے ۔ اس لئے جیسے بھی حالات ہوں ، ہم نے اس کا سامنا اور مقابلہ عاجزی اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کرنا ہے اور خدا سے دعا کرنا ہے کہ حکومت کچی آبادیوں کو مسمار کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرے .سابق وفاقی وزیر جے سالک نے اپنے خصوصی پیغام میں لوگوں کو پرامن اور ملکی سلامتی کیلئے دعا گو رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ میرا پختہ یقین ہے کہ حکومت اسلام آباد کی کچی آبادیوں کو خالی کروانے کے فیصلے پر نظرثانی کر تے ہوئے اس پر عملدرآمد سے گریز کریگی ۔ ہم مسیحی پرامن اور پاکستان کے مساوی شہری ہیں۔ اسلئے حکومت ہمارے گھر مسمار کرنے کی بجائے ہمیں باعز ت رہائش مہیا کرے اور ان بستیوں کو مالکانہ حقوق دیتے ہوئے ان میں تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مسیحیوں کی خدمات کے بغیر اس شہر کا نظم و نسق ناممکن ہے ۔ جو لوگ اتنی خدمات فراہم کرتے ہیں، انکی رہائشں کیلئے پالیسی بنانا ادارہ کی بنیادی ذمہ دار ی ہے ۔ ہزار و ں مسیحی رہائشی ان بستیوں میں نا مناسب او ر غیر صحتمندانہ ماحول میں رہے ہیں، ان کا بھی حق ہے انکے لئے بہتر رہائشی سہولیات مہیا ہوں۔ اس حوالے سے امتیازی سلوک نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر آئینی بھی ہے ۔











