اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاک فلسطین فورم کا خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے29 مارچ سےخیبر سے کراچی تک عوامی پر امن قافلہ اقصیٰ مارچ کا اعلان، قافلہ اقصیٰ” مارچ خیبر پاس (خیبر پختونخوا، سے شروع ہو کر پاکستان کے مختلف شہروں سے گزرتا ہوا کراچی پہنچے گا جہاں علامتی بحری سفربھی کرے گا،یہ قافلہ پاکستان کے تقریباً 20 شہروں اور اضلاع سے گزرے گا ،پاکستان غزہ پیس فورم سے علیحدگی کا اعلان کرے ، اس بات کا اعلان پاک فلسطین فورم کے سرپرست سینیٹر مشتاق احمد خان اورچیئرمین پاک فلسطین فورم وہاج احمد نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں کیا،انکا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی بحران بدستور شدید تر ہوتا جا رہا ہے، غزہ گورنمنٹ میڈیا آفس کے مطابق اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے بعض نمائندوں کے مطابق حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ (680000 تک) ہو سکتی ہے اور نام نہاد جنگ بندی کے اعلان کے باوجود زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے، اب تک 1700 سے زائد جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں اور اسرائیلی افواج اوسطاً ہر ہفتے سات میں سے چھ دن غزہ پر حملے کرتی رہی ہیں،انسانی امداد کی رسائی بھی شدید طور پر محدود کر دی گئی ہے، روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کی اجازت کے باوجود اقوام متحدہ کے مطابق متوقع امداد کا نصف سے بھی کم غزہ پہنچ سکا ہے، اسی دوران اسرائیل مغربی کنارے میں زمینوں پر قبضے کو قانونی شکل دینے اور فلسطینی قیدیوں کے حوالے سے انتہائی سخت قوانین لانے کی تیاری بھی کر رہا ہے جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے، ایران میں تقریباً دو ہزار اہداف کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 1100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے میں شہید ہونے والی طالبات کی بڑی تعداد بھی شامل ہیں، یہ حالیہ دہائیوں کی شدید ترین فضائی مہمات میں سے ایک ہے جس نے پورے خطے میں عدم استحکام کو بڑھا دیا ہے۔ اسی طرح لبنان میں اسرائیلی حملوں کے باعث بھی سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں اور دسوں ہزار شہری اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں،یہ صور تحال خطے میں جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کی خطرناک کوشش ہے،پاک فلسطین فورم نے گلوبل فلوٹیلا کی بھر پور حمایت کا اعادہ بھی کیا ،۔گلوبل فلوٹیلا کا یہ سلسلہ ایک بڑا عالمی انسانی مشن ہے جس کے اہم مقاصد غزہ پر اسرائیل کے غیر قانونی محاصرے کو چیلنج کرناخوراک، ادویات اور دیگر انسانی امداد پہنچاناتباہ حال علاقوں کی ابتدائی بحالی میں مدد دینا، عالمی سطح پر اس محاصرے کو برقرار رکھنے والی قوتوں کو بے نقاب کرنادنیا بھر کے عوام کو فلسطین کے حق میں متحرک کرنا شامل ہیںPکی کا آغاز 29 مارچ 2026 کو باب خیبر سے کیا جائے گا۔ جس کے بنیادی مقاصد یہ ہیں:فلسطین اور غزہ کے عوام کے ساتھ قومی سطح پر اظہار یکجہتیفلسطین، ایران اور لبنان کے خلاف جارحیت کے خلاف مشترکہ رد عمل. گلوبل فلوٹیلا کے مقاصد کی پاک فلسطین فورم نےحکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس قافلہ اقصیٰ کو سپورٹ کیا جائے اور اس میں لوگوں کی پر امن شمولیت کو ممکن بنایا جائے،غزہ کے محاصرے کو توڑنے اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے انسانی امداد کے اقدامات کو فوری طور پر تیز کیا جائے اور اس میں ریاستی سطح پر کردار ادا کیا جائے،گلوبل فلوٹیلا کی حمایت کی جائے اور فلوٹیلا کے حوالے سے غزہ چوک (سابقہ ڈی چوک) دھرنے میں سیو غزہ کمپین سے کئےگئے معاہدے پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سے امدادی فلوٹیلا اور پاکستانی فلیگ کیریئر کی فراہمی ممکن بنائی جائے،حکومت پاکستان فلسطین کے مسئلے پر محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اور مؤثر اقدامات اٹھائے۔ پاکستان ایک اہم مسلم اور علاقائی طاقت ہونے کے ناطے انسانی اصولوں، بین الاقوامی انصاف اور امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفاد کے مطابق قیادت کا کردار ادا کرے۔خطے میں امن اور استحکام کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت اور جنگی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کی جائے اور ایران کی مکمل حمایت کی جائے۔ پاکستانیوں کا مارچ برائے غزہ ایک سفر نہیں بلکہ پاکستانی عوام کے ضمیر، اتحاد اور فلسطین کے ساتھ لازوال تعلق کا اظہار ہوگا۔











