دنیا اسلام کی خاتونِ اول، اُمُّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلامُ اللہ علیہا، جن کا یومِ وفات 28 فروری کو منایا جا رہا ہے۔
تحریر: ڈاکٹر غضنفر مہدیاُمُّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلامُ اللہ علیہا
حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلامُ اللہ علیہا اسلام کی تاریخ کی ایک عظیم، باوقار اور باکردار شخصیت ہیں۔ آپ نہ صرف حضور اکرم ﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں بلکہ اسلام قبول کرنے والی سب سے پہلی خاتون بھی تھیں۔ آپ کو “اُمُّ المومنین” یعنی مومنوں کی ماں کا عظیم لقب حاصل ہے۔ آپ کی زندگی صبر، وفا، ایثار اور قربانی کی روشن مثال ہے۔
پیدائش اور خاندانی پس منظر
حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا کی ولادت تقریباً 555 عیسوی میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ آپ کا تعلق قریش کے معزز خاندان بنو اسد سے تھا۔ آپ کے والد کا نام خویلد بن اسد تھا جو عرب کے ایک معزز اور کامیاب تاجر تھے۔ حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا نے اپنے والد کی وفات کے بعد تجارت کا کاروبار سنبھالا اور اپنی دیانت، ذہانت اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے “طاہرہ” کے لقب سے مشہور ہوئیں۔
آپ مکہ کی کامیاب ترین تاجروں میں شمار ہوتی تھیں۔ آپ اپنے مال کو مختلف تاجروں کے ذریعے شام اور دیگر علاقوں میں تجارت کے لیے بھیجتی تھیں-
حضور اکرم ﷺ سے نکاح
جب حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا نے حضور اکرم ﷺ کی امانت، دیانت اور سچائی کے بارے میں سنا تو آپ نے اپنا تجارتی مال آپ ﷺ کے حوالے کیا۔ حضور ﷺ نے انتہائی دیانت داری اور مہارت سے تجارت کی اور توقع سے زیادہ منافع حاصل کیا۔ اس حسنِ کردار سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا نے نکاح کا پیغام بھیجا۔
آپ کی عمر چالیس سال تھی جبکہ حضور اکرم ﷺ کی عمر پچیس سال تھی۔ یہ نکاح نہایت بابرکت ثابت ہوا۔ آپ نے اپنی ساری زندگی حضور ﷺ کے ساتھ وفاداری اور محبت میں گزاری۔
اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون
جب حضور اکرم ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ ﷺ غارِ حرا سے واپس آئے تو آپ ﷺ پر ایک کیفیت طاری تھی۔ اس وقت حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں اور محتاجوں کی مدد کرتے ہیں۔
سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف بھی حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا کو حاصل ہوا۔ آپ نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا اور اپنی دولت، وقت اور جان سب کچھ دینِ اسلام کے لیے قربان کر دیا۔
قربانیاں اور صبر
ابتدائی دورِ اسلام میں کفارِ مکہ نے مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھائے۔ شعبِ ابی طالب کا محاصرہ تین سال تک جاری رہا۔ اس دوران حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا نے اپنی ساری دولت اسلام کی راہ میں خرچ کر دی۔ بھوک، پیاس اور تکالیف کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کیا۔
آپ کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام کو مضبوط بنیاد ملی۔ حضور اکرم ﷺ آپ سے بے حد محبت کرتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد بھی آپ کو یاد فرمایا کرتے تھے۔
اولاد اور گھریلو زندگی
حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا سے حضور اکرم ﷺ کی کئی اولاد ہوئیں جن میں حضرت قاسم، حضرت عبداللہ، حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ علیہم السلام شامل ہیں۔
حضرت فاطمہ سلامُ اللہ علیہا کو بعد میں جنتی خواتین کی سردار کا مقام حاصل ہوا۔
حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا ایک بہترین بیوی اور ماں تھیں۔ آپ کا گھر محبت، سکون اور ایمان کا مرکز تھا۔
وصال اور عامُ الحزن
حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا کا وصال 619 عیسوی میں ہوا۔ اس سال کو اسلامی تاریخ میں “عامُ الحزن” یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے کیونکہ اسی سال حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت ابو طالب کا بھی انتقال ہوا۔
آپ کی وفات حضور ﷺ کے لیے بہت بڑا صدمہ تھی۔ آپ کو مکہ مکرمہ کے قبرستان جنت المعلیٰ میں سپردِ خاک کیا گیا۔
حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا کی فضیلت
احادیث میں آپ کی فضیلت بیان ہوئی ہے کہ جنت میں آپ کے لیے موتیوں کا محل ہے جہاں نہ شور ہوگا نہ تکلیف۔ آپ چار عظیم عورتوں میں شامل ہیں جنہیں دنیا کی بہترین خواتین قرار دیا گیا:
* حضرت مریم علیہا السلام
* حضرت آسیہ علیہا السلام
* حضرت فاطمہ سلامُ اللہ علیہا
* حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا
نتیجہ
حضرت خدیجہ الکبریٰ سلامُ اللہ علیہا کی زندگی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ ایک عورت اپنے کردار، ایمان اور قربانی کے ذریعے پوری قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ آپ کی وفاداری، صبر اور ایثار قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت خدیجہ سلامُ اللہ علیہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔











