منگل,  10 مارچ 2026ء
کفایت شعاری اقدامات سے قومی خزانے کو کتنی بچت ہوگی؟ تفصیلات سامنے آ گئیں

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کفایت شعاری کے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت سرکاری اخراجات میں کمی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی، وفاقی کابینہ کے ارکان کی دو ماہ کی تنخواہوں کی معطلی اور ارکانِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی شامل ہے۔

اعلان کے مطابق آئندہ دو ماہ تک وفاقی وزرا، مشیران اور معاونینِ خصوصی تنخواہ وصول نہیں کریں گے جبکہ ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی تنخواہوں میں بھی 25 فیصد کمی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ گریڈ 20 سے 22 تک کے ایسے سرکاری افسران جن کی تنخواہ تین لاکھ روپے سے زائد ہے، ان کی دو دن کی تنخواہ عوامی ریلیف کے لیے کاٹی جائے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق ان تمام اقدامات سے مجموعی طور پر تقریباً 2 ارب 61 کروڑ 14 لاکھ روپے کی بچت متوقع ہے۔ اس میں کابینہ ارکان، ارکانِ پارلیمنٹ اور سرکاری افسران کی تنخواہوں میں کمی سے تقریباً 26 کروڑ 14 لاکھ روپے کی بچت ہوگی جبکہ سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی سے لگ بھگ 2 ارب 35 کروڑ روپے بچائے جا سکیں گے۔

اسپین کے وزیراعظم نے ایک بار پھر ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے خلاف آواز اٹھادی

تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے تقریباً 50 ارکان اگر دو ماہ کی تنخواہ وصول نہ کریں تو قومی خزانے کو تقریباً 5 کروڑ 19 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔ اسی طرح وزیراعظم کی دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے سے تقریباً 3 لاکھ 92 ہزار روپے کی بچت متوقع ہے۔

اراکینِ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مجموعی تعداد 432 ہے۔ اگر ان کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی کی جائے تو اس سے تقریباً 15 کروڑ 22 لاکھ 80 ہزار روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

اسی طرح گریڈ 20 سے 22 تک کے افسران کی دو دن کی تنخواہ کٹوتی سے تقریباً 3 کروڑ 76 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب وفاقی اور پنجاب حکومت کی سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی سے بھی بڑی بچت متوقع ہے۔ اندازوں کے مطابق وفاقی حکومت کے زیر استعمال 12 سے 15 ہزار گاڑیوں پر سالانہ تقریباً 9 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کی تقریباً 30 ہزار سرکاری گاڑیوں پر سالانہ تقریباً 20 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ اگر دو ماہ کے لیے ایندھن کے اخراجات میں نصف کمی کر دی جائے تو مجموعی طور پر تقریباً 2 ارب 35 کروڑ روپے بچائے جا سکتے ہیں۔

مزید خبریں