ایران پر حملوں کے بعد جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گئی، عالمی معیشت متاثر

تہران(روشن پاکستان نیوز) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے صرف بہتر گھنٹوں کے اندر یہ تنازعہ ایک وسیع جنگی صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ جنگ نہ صرف پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے بلکہ اس کے اثرات یورپ تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کا فیصلہ یا تو غلط اندازہ ثابت ہوا یا اس کے ممکنہ نتائج کا مکمل ادراک نہیں کیا گیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے ذریعے امریکہ کو اس جنگ میں شامل کیا، حالانکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای چند ہفتے قبل ہی خبردار کر چکے تھے کہ ایران پر حملہ ہوا تو جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔ موجودہ صورتحال ان کے بیان کی تصدیق کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایران اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین، لبنان اور عراق بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔ جنگ کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہے بلکہ عالمی معیشت اور تجارتی سرگرمیاں بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ تین دن کے اندر ایرانی حملوں نے خلیجی ممالک کی سیاحت کی صنعت کو مفلوج کر دیا ہے جبکہ تیل اور گیس کی ترسیل اور تجارت میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں۔

تہران پر حملے ، سپریم لیڈر خامنہ ای کو کہاں منتقل کیا گیا؟

رپورٹس کے مطابق ایران نے خطے میں موجود امریکی اڈوں پر سیکڑوں میزائل داغے، جن کے نتیجے میں کم از کم چھ امریکی فوجی ہلاک اور درجنوں شہری جان کی بازی ہار گئے۔ حملوں کے دوران افراتفری میں امریکہ کے تین لڑاکا طیارے بھی گرنے کی اطلاعات ہیں۔ مزید برآں ایران نے کویت اور سعودی عرب میں امریکی سفارت خانوں کو نشانہ بنایا جس کے بعد دونوں سفارت خانے بند کر دیے گئے۔

صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر امریکہ نے اسرائیل، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، مصر، عراق، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام اور یمن میں موجود اپنے شہریوں کو فوری طور پر خطہ چھوڑنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اسی طرح مختلف ممالک میں تعینات غیر ضروری امریکی عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی واپس بلایا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے اور امریکہ ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ ایک نہ ختم ہونے والی جنگ نہیں ہوگی۔

تاہم ماہرین اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے سیاسیات کے پروفیسر رابرٹ ٹیپ کے مطابق امریکہ اس وقت کشیدگی کے ایک ایسے جال میں پھنس چکا ہے جو گزشتہ سو برس کی تاریخ میں کبھی کامیاب حکمت عملی ثابت نہیں ہوا۔ ان کے بقول موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

مزید خبریں