پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، عوام اور ٹرانسپورٹرز شدید پریشان

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایک طرف شہری پہلے ہی مصنوعی مہنگائی، کم ہوتی آمدن اور بڑھتے روزمرہ اخراجات سے نالاں ہیں، تو دوسری جانب حکومت کی جانب سے پٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عام صارفین سمیت ٹرانسپورٹرز کو بھی شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی کو مزید ہوا دیتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اشیائے خوردونوش، سبزیوں، دالوں اور دیگر ضروری سامان کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ یوں اس کا بوجھ آخرکار عام آدمی کی جیب پر پڑتا ہے، جس کی آمدن پہلے ہی محدود ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے ان کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ بسوں، ویگنوں، ٹرکوں اور رکشوں کے مالکان کے مطابق موجودہ کرایوں پر گاڑیاں چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کرایوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہے گا، تاہم کرایوں میں اضافے کی صورت میں مسافر مزید متاثر ہوں گے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا

ماہرین معاشیات کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایک “چین ری ایکشن” پیدا کرتا ہے، جس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ مہنگی ہونے سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، جس کا نتیجہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر کم آمدن والے طبقات ہوتے ہیں، جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے اثرات عوام تک منتقل نہیں کیے جاتے، جبکہ معمولی اضافے کا بوجھ بھی فوراً صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی، درآمدی اخراجات اور مالی دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ تاہم عوام کا کہنا ہے کہ معاشی فیصلوں میں عام آدمی کی قوتِ خرید کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام نہ لایا گیا تو مہنگائی کی موجودہ لہر مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف عوامی بے چینی بڑھے گی بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ریلیف اقدامات کے ذریعے عوام اور ٹرانسپورٹرز کو سہارا دے، تاکہ معاشی دباؤ میں کچھ کمی لائی جا سکے۔

مزید خبریں