جمعرات,  26 فروری 2026ء
قوانین میں ترمیم سے ویمن چیمبرز کے خاتمے کا خدشہ، ثمینہ فاضل کا انتباہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) اسلام آباد ویمن چیمبر کی بانی صدر ثمینہ فاضل نے خبردار کیا ہے کہ قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا بل، جس کے ذریعے ٹریڈ آرگنائزیشنز رولز 2013 میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، ملک بھر میں ضلعی سطح پر قائم ویمن چیمبرز کو ختم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے طویل جدوجہد کے بعد قائم ہونے والے درجنوں ویمن چیمبرز عملاً تحلیل ہو جائیں گے۔

ثمینہ فاضل کے مطابق مجوزہ ترامیم کے تحت چیمبرز کا دائرہ اختیار ڈویژنل یا میونسپل حدود تک محدود کیا جا رہا ہے، جس سے موجودہ ضلعی بنیاد پر قائم ڈھانچہ ختم ہو جائے گا۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز بلال پاشا کو ارسال کردہ خط میں ملک بھر کے ویمن چیمبرز کی صدور کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلیاں نمائندگی کو مرکزیت کی طرف لے جائیں گی اور نچلی سطح پر کاروباری برادری کی شمولیت کم ہو جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے خصوصاً تحصیل اور دیہی علاقوں میں کام کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہوں گے۔ پاکستان میں تقریباً 52 لاکھ ایس ایم ایز ہیں جو مجموعی قومی پیداوار میں لگ بھگ 40 فیصد حصہ ڈالتی ہیں اور غیر زرعی روزگار کا تقریباً 80 فیصد فراہم کرتی ہیں۔ ان میں خواتین کی قیادت میں چلنے والے کاروبار بھی شامل ہیں، جو نمایاں مگر کم دستاویزی ہیں۔

ثمینہ فاضل نے کہا کہ خواتین پہلے ہی مالی وسائل تک محدود رسائی، نقل و حرکت میں رکاوٹوں اور منڈیوں تک کمزور روابط جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔ ضلعی سطح کے ویمن چیمبرز کے خاتمے سے کئی کاروبار غیر رسمی معیشت میں منتقل ہو جائیں گے اور خواتین کی پالیسی سازی کے فورمز تک رسائی مزید محدود ہو جائے گی۔

انہوں نے قانون سازوں سے اپیل کی کہ مجوزہ ترامیم پر نظرثانی کی جائے اور ملک بھر میں قائم ویمن چیمبرز کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنے پر توجہ دی جائے، نہ کہ اسے محدود یا ختم کیا جائے۔

مزید خبریں