اتوار,  29 مارچ 2026ء
 ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی افسران کیساتھ توہین آمیز رویہ، سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا

واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر ایک واقعہ خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فوجی افسران (جنرلز) کو اعزازات یا ترقی کے بیجز دیے جا رہے تھے۔

رپورٹس کے مطابق، اس تقریب کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اپنی کرسی پر بیٹھے رہے جبکہ فوجی افسران ان کے سامنے کھڑے ہو کر اعزاز وصول کرتے رہے۔ عمومی طور پر ایسے مواقع پر سربراہِ مملکت کھڑے ہو کر افسران کو اعزاز دیتے ہیں تاکہ احترام اور وقار کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ اس روایت کے برعکس یہ انداز کئی حلقوں میں ناپسندیدگی کا باعث بنا۔

عوامی اور سوشل میڈیا ردِعمل

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بعد شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ صارفین کی بڑی تعداد نے اس رویے کو غیر مناسب اور توہین آمیز قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ فوجی افسران، خاص طور پر جنرلز، ریاست کے اہم ستون ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ عزت و احترام کا برتاؤ ضروری ہے۔

ماہرین کے مطابق، فوجی تقریبات میں پروٹوکول اور احترام کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ایسے مواقع پر قائدین کا طرزِ عمل ایک علامتی پیغام دیتا ہے، جو اداروں کے وقار سے جڑا ہوتا ہے۔ اس لیے اس طرح کے اقدامات پر تنقید ہونا ایک فطری عمل ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر روایتی اور متنازع انداز کو نمایاں کرتا ہے۔ جہاں ان کے حامی اسے انفرادیت سمجھتے ہیں، وہیں ناقدین اسے ادارہ جاتی آداب کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری بحث اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ عوامی شخصیات کے رویے کو کس قدر باریکی سے دیکھا اور پرکھا جاتا ہے، خصوصاً جب معاملہ قومی اداروں کے احترام سے متعلق ہو۔

دوسری جانب

ایران پر جنگ مسلط کرنے پر امریکا میں بڑے پیمانے پر ٹرمپ کیخلاف مظاہرے، 70 لاکھ افراد کی شرکت

ایران پر جنگ مسلط کرنے کے خلاف امریکا میں بڑے پیمانے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نو کنگز مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

میڈیارپورٹ کے مطا بق امریکا بھر میں ہفتے کے روز مظاہروں میں 70 لاکھ افراد نے شرکت کی جس میں مظاہرین نے جنگ روکنے کے مطالبات  کیے۔

نیویارک میں عالمی شہرت یافتہ ہالی وڈ اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے امریکی صدر پر کڑی تنقید کی۔

رابرٹ ڈی نیرو نے “نو کنگز” ڈے تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ   ٹرمپ اپنے غلط کام کانگریس اور عملےکی ملی بھگت کےب غیرنہیں کرسکتا، کرپٹ رہنماؤں کو خود کو مالدار بنانے سے روکا جانا چاہیے۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کو بھی امریکا کی 50 ریاستوں میں 3ہزار200احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں ۔

مظاہرین انتظامیہ کے مطابق مظاہروں میں امریکی تاریخ میں سب سےبڑی تعداد میں مظاہرین کی شرکت کریں گے۔

دوسری جانب ایران پر جنگ مسلط کیے جانے کے خلاف اسرائیل کے مختلف شہروں میں بھی ابتک کے سب سے بڑے مظاہرے کیے گئے ہیں۔

تاہم اسرائیلی پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا اور انہیں منتشر کرنےکی کوشش کی۔

روسی میڈیا کےمطابق تل ابیب میں کیے گئے مظاہرے میں خواتین اور معمر افراد بھی شریک تھے جنہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی جانب سےایران پر مسلط کردہ جنگ کے خلاف نعرے لگائے۔

اس کے علاوہ دنیا بھر میں مظاہرین نے “No Kings” ریلیاں اور مظاہرے  کیے۔

رپورٹس کے مطابق اٹلی، فرانس، اسپین، جرمنی، نیدرلینڈز اور آسٹریلیا میں بھی مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نعرے  لگائے اور جنگ روکنے کا مطالبہ کیا۔

مزید خبریں