“استحکامِ پاکستان اور آزادیٔ کشمیر: ایک نظریاتی وحدت کی ناگزیر حقیقت”
"استحکامِ پاکستان اور آزادیٔ کشمیر: ایک نظریاتی وحدت کی ناگزیر حقیقت"

تحریر: مشتاق احمد بٹ

سیکریٹری اطلاعات، کل جماعتی حریت کانفرنس (آزاد کشمیر و پاکستان شاخ)

23 مارچ برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی تاریخ کا وہ روشن سنگِ میل ہے جس نے ایک خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کی بنیاد فراہم کی۔ 1940 میں منظور ہونے والی قراردادِ پاکستان محض ایک سیاسی دستاویز نہ تھی، بلکہ ایک ہمہ گیر فکری، نظریاتی اور تہذیبی بیداری کا اعلان تھی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک منتشر قوم نے اپنے مستقبل کا تعین خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی بصیرت افروز قیادت، مسلمانوں کے غیر متزلزل عزم اور بے مثال قربانیوں نے صرف سات برس کے مختصر عرصے میں اس خواب کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ثبت کر دیا۔

آج جب ہم یومِ پاکستان مناتے ہیں تو یہ صرف ماضی کی یادوں کو تازہ کرنے کا دن نہیں، بلکہ اپنے عہد کی تجدید کا لمحہ بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کا قیام ایک مقصد کے تحت عمل میں آیا تھا — ایک ایسا مقصد جو انصاف، خودمختاری، اور اسلامی اقدار کے فروغ سے عبارت ہے۔ لہٰذا، اس ریاست کی سالمیت، استحکام اور نظریاتی بنیادوں کا تحفظ ہر پاکستانی کی اولین ذمہ داری ہے۔

پاکستان محض ایک جغرافیائی وجود نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک مضبوط فصیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ ریاست ہے جو لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل ہوئی، اور جسے اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت کے طور پر ہمیں عطا کیا گیا۔ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان نے بے شمار داخلی و خارجی چیلنجز کا سامنا کیا، مگر ہر آزمائش سے مزید مضبوط ہو کر ابھرا۔ یہ استقامت اس حقیقت کی غماز ہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے — ایک ایسا نظریہ جو حق، حریت اور خودارادیت کا علمبردار ہے۔

کشمیر اور پاکستان کا رشتہ محض جغرافیہ یا سیاست تک محدود نہیں، بلکہ یہ دلوں کی گہرائیوں میں پیوست ایک نظریاتی اور روحانی تعلق ہے۔ کشمیری عوام پاکستان کو اپنی امید، اپنی پہچان اور اپنی منزل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ دہائیوں سے جاری ظلم، جبر اور ریاستی تشدد کے باوجود کشمیریوں کے جذبۂ حریت میں کوئی کمی نہیں آئی، اور ان کے دلوں میں پاکستان کے لیے محبت اور وابستگی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ پاکستان اور کشمیر ایک ہی تاریخ، ایک ہی جدوجہد اور ایک ہی نصب العین سے جڑے ہوئے ہیں۔

آج کے پیچیدہ عالمی منظرنامے میں، جہاں مظلوم اقوام انصاف اور آزادی کے لیے سراپا احتجاج ہیں، پاکستان ایک امید کی کرن کے طور پر سامنے آتا ہے۔ ایک مضبوط، خودمختار اور مستحکم پاکستان ہی کشمیر اور فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے حقیقی سہارا بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی داخلی استحکام اور ترقی نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اہمیت رکھتی ہے۔

حریت قیادت کی جانب سے اس موقع پر پاکستانی قیادت، افواجِ پاکستان اور غیور عوام کو یومِ پاکستان کی دلی مبارکباد پیش کی جاتی ہے۔ کشمیری عوام پاکستان کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے دعاگو ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی جدوجہدِ آزادی کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے، یہاں تک کہ حق و انصاف کی فتح ممکن ہو جائے۔

اختتاماً، یومِ پاکستان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ آزادی صرف ایک نعمت نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ یہ دن ہمیں اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتا ہے، تاکہ ہم نہ صرف پاکستان کو مضبوط بنا سکیں بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے امید کی کرن بھی بن سکیں۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو تا قیامت قائم و دائم رکھے، اسے استحکام، ترقی اور کامیابیوں سے ہمکنار کرے، اور ہمیں اس کے حقیقی مقاصد کی تکمیل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

مزید خبریں