منگل,  20 جنوری 2026ء
سوشل میڈیا پر شہرت کی دوڑ، اریبہ بلال نامی خاتون کی سرگرمیوں پر سوالات اٹھنے لگے

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پر لائیکس، ویوز اور فالوورز کی دوڑ نے ہمارے معاشرے کی اخلاقی اقدار کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہرت حاصل کرنے اور مقبولیت بڑھانے کی خاطر ایسا مواد پیش کیا جا رہا ہے جو نہ صرف ہمارے دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار سے متصادم ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کو بھی فروغ دے رہا ہے۔

حال ہی میں اریبہ بلال نامی ایک خاتون کی جانب سے فیس بک پر چلائے جانے والے ایک پیج پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں وہ ایک بزرگ خاتون کے ساتھ بیٹھ کر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیوز کے حوالے سے گفتگو کرتی نظر آتی ہیں۔ اگرچہ بظاہر اس گفتگو کو آگاہی یا تبصرے کے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد خود اسی غیر اخلاقی رجحان کو مزید پھیلانے کا سبب بن رہا ہے جس کی مذمت کی جا رہی ہے۔

معاشرتی تجزیہ کاروں کے مطابق بزرگ خواتین اور کمزور طبقات کو اس نوعیت کے مواد میں شامل کرنا نہ صرف اخلاقی طور پر قابلِ اعتراض ہے بلکہ یہ ہمارے خاندانی اور تہذیبی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا شہرت کی خاطر ہر حد پار کرنا درست ہے؟ اور کیا ایسا مواد واقعی ہمارے معاشرے، خصوصاً نوجوان نسل، کے لیے موزوں ہے؟

پنجاب میں ایک سال میں پونے دو لاکھ طلاقیں، وجہ کیا ہے؟

علما، اساتذہ اور سماجی رہنماؤں نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کو اصلاح اور مثبت پیغام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ غیر ضروری اور نازیبا موضوعات کو عام کر کے معاشرتی زوال کو تیز کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ بچوں کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور انہیں صحیح اور غلط میں فرق سمجھائیں۔

دوسری جانب شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور متعلقہ ادارے ایسے مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں جو اخلاقی حدود سے تجاوز کرتا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو ہم بحیثیت قوم اخلاقی پستی کی اس سطح پر پہنچ سکتے ہیں جہاں سے واپسی مشکل ہو جائے گی۔

یہ وقت خود احتسابی کا ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں اور سوشل میڈیا کے نام پر اپنی اقدار، روایات اور شناخت کو کس قیمت پر قربان کر رہے ہیں۔ معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے اور ایسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو ہمارے اجتماعی کردار کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔

مزید خبریں