اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) ڈیجیٹل میڈیا کے تیز رفتار پھیلاؤ نے جہاں اظہارِ رائے کو آسان بنایا ہے، وہیں اس نے صحافت اور سماجی اقدار کے تصور کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ آج ویڈیو ایڈیٹنگ، وی لاگنگ اور پوڈکاسٹنگ کو صحافت کا متبادل سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ صحافت ایک ذمہ دارانہ پیشہ ہے جس کی بنیاد تحقیق، تصدیق، اخلاقیات اور سماجی ذمہ داری پر ہوتی ہے۔ محض کیمرہ، موبائل فون یا سوشل میڈیا اکاؤنٹ کا ہونا کسی کو صحافی نہیں بناتا، مگر بدقسمتی سے یہی غلط فہمی معاشرے میں عام ہو چکی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں ہر وہ شخص جو ویڈیو بنا سکتا ہے، خود کو اینکر، تجزیہ کار یا صحافی سمجھنے لگا ہے۔ اس رجحان کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ سنسنی، ذاتیات، کردار کشی اور نجی زندگی کی نمائش کو مواد کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ وی لاگ اور پوڈکاسٹ کے نام پر ایسی گفتگو اور مناظر پیش کیے جا رہے ہیں جو نہ صرف اخلاقی اقدار کے منافی ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔ عزت و آبرو کی پامالی کو ویوز اور لائکس کے ترازو میں تولنا ایک خطرناک سوچ کی عکاسی ہے۔
چند سال پہلے تک فیملی وی لاگنگ کا تصور ہمارے معاشرے میں تقریباً ناپید تھا۔ اب یہ رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جہاں ذاتی زندگی، گھریلو معاملات، خواتین اور بچوں کو عوامی نمائش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اس عمل کو نہ صرف معمول سمجھ لیا گیا ہے بلکہ اسے کامیابی اور جدیدیت سے جوڑ دیا گیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس طرزِ عمل کی ہماری دینی اور ثقافتی اقدار میں کوئی گنجائش ہے؟ اسلام واضح طور پر حیا، پردے اور نجی زندگی کے احترام کا درس دیتا ہے، خصوصاً خواتین کے وقار اور تحفظ پر زور دیتا ہے۔ ایسے میں خاندان کی خواتین اور بچوں کو غیر ضروری طور پر غیر محرموں کے سامنے پیش کرنا اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔
مزید پڑھیں: سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی یقینی بنانا ناگزیر ہے، عطا اللہ تارڑ
یہ مسئلہ صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ جب نئی نسل ایسے مواد کو معمول سمجھ کر دیکھتی ہے تو ان کے ذہن میں اقدار کی حدود دھندلا جاتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، علما، میڈیا اداروں اور ریاستی ریگولیٹرز سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بگاڑ پر سنجیدگی سے غور کریں۔ آزادیٔ اظہار کے نام پر بے راہ روی کو فروغ دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت اور ڈیجیٹل مواد کے درمیان واضح فرق کو سمجھا اور سمجھایا جائے۔ اخلاقی ضابطوں، دینی اقدار اور قانونی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے اظہارِ رائے کو فروغ دیا جائے۔ بصورتِ دیگر یہ بے لگام رجحان نہ صرف خاندانی نظام کو متاثر کرے گا بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی کمزور کر دے گا، جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑے گا۔











