اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے معاشرتی حلقوں میں شدید تشویش کو جنم دیا ہے، جس میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ایک مصروف مارکیٹ میں ایک لڑکی کو یہ پیشکش کرتا نظر آتا ہے کہ وہ دس منٹ کے لیے اس کی گرل فرینڈ بن جائے، جس کے بدلے میں وہ اسے پچاس ڈالر دے گا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لڑکی اس پیشکش کو قبول کر لیتی ہے، جس کے بعد انفلوئنسر اس کے ساتھ آئس کریم کھاتا ہے، انگوٹھی پہناتا ہے اور آخر میں اس سے فون نمبر بھی حاصل کرتا ہے۔ اس تمام عمل کو تفریح اور کانٹینٹ کے نام پر ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر پیش کیا جاتا ہے، جہاں اسے لاکھوں لوگ دیکھتے اور شیئر کرتے ہیں۔
یہ ویڈیو محض ایک فرد یا ایک انفلوئنسر کا عمل نہیں بلکہ ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتی ہے، جس میں شہرت، لائکس اور ویوز کے حصول کے لیے اخلاقی حدود کو دانستہ طور پر پامال کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے مواد کے ذریعے نوجوان نسل کو کون سا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پیسے کے عوض وقتی تعلقات بنانا ایک معمولی اور قابلِ قبول عمل ہے؟ ایک اسلامی اور قدامت پسند معاشرے میں اس نوعیت کے مناظر نہ صرف معاشرتی اقدار کو کمزور کرتے ہیں بلکہ بے حیائی اور غیر سنجیدگی کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، جعلی عاملوں اور پیروں کے خلاف آواز بلند
ماہرینِ سماجیات کے مطابق اس طرح کے وی لاگز اور پرینکس نوجوانوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، جہاں رشتوں کی سنجیدگی، باہمی احترام اور اخلاقی قدروں کی جگہ وقتی فائدہ اور دکھاوے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ خواتین کو اس انداز میں کانٹینٹ کا حصہ بنانا انہیں محض ایک شے یا تفریح کا ذریعہ بنا کر پیش کرتا ہے، جو صنفی احترام کے تصور کے بھی منافی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایسے مواد کو روکنے یا فلٹر کرنے کا مؤثر نظام نظر نہیں آتا، جبکہ ناظرین کی بڑی تعداد بھی تنقید کے بجائے ایسے ویڈیوز کو وائرل کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ، معاشرتی رہنما اور متعلقہ ادارے اس رجحان کا سنجیدگی سے نوٹس لیں، اور نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور اخلاقی حدود کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ آزادیٔ اظہار کے نام پر فحاشی، بے حیائی اور اخلاقی زوال کو فروغ دینا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جو اسلامی اقدار اور روایات کے نام پر وجود میں آیا۔ اگر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس طرح کا مواد معاشرے میں بے حسی اور بے غیرتی کو مزید عام کر سکتا ہے، جس کے نتائج طویل المدت اور نقصان دہ ہوں گے۔











