بدھ,  07 جنوری 2026ء
اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، جعلی عاملوں اور پیروں کے خلاف آواز بلند
اسلام کے نام پر دھوکہ دہی کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، جعلی عاملوں اور پیروں کے خلاف آواز بلند

اسلام آباد/لندن(روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پر اسلام کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی اور جعلی روحانی عملیات کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ ایک صارف کی جانب سے کی گئی پوسٹ میں ایسے عناصر کو آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے جو مبینہ طور پر مذہب کا سہارا لے کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹتے ہیں اورپیر آف بلاوڑہ شریف حق خطیب حسین علی بادشاہ عرف “شف شف سرکار” جیسے غیر اسلامی دعوؤں کے ذریعے بیماریوں کے علاج کا جھوٹا تاثر دیتے ہیں۔ صارف کا کہنا ہے کہ ایسے افراد پاکستان کے بعد یورپ، خصوصاً برطانیہ جا کر وہاں کے سیدھے سادے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں جہاں علم کی کمی کے باعث بعض افراد ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔

پوسٹ میں زور دیا گیا ہے کہ پڑھے لکھے اور باشعور افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے عناصر کی کھل کر مذمت کریں اور عوام کو اصل اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں۔ صارف کے مطابق حقیقی تعلیمات وہی ہیں جو قرآن و سنت میں بیان کی گئی ہیں اور لوگوں کو چاہیے کہ ایسے مولویوں اور پیروں کے دعوؤں پر یقین نہ کریں جو غیر شرعی طریقوں سے شفا دینے کے دعوے کرتے ہیں۔

اسی سلسلے میں برطانوی مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے ایک انگریزی پیغام بھی شیئر کیا گیا جس میں چند مذہبی حلیہ رکھنے والے افراد کو “غلط نمبر” قرار دیا گیا۔ پیغام میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کی گفتگو پرکشش اور انداز متاثر کن لگتا ہے، مگر حقیقت میں یہ افراد مذہب کو نقصان پہنچا رہے ہیں، ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور معاشرے کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ اس حوالے سے حضور اکرم ﷺ کی حدیث بھی نقل کی گئی جس میں فصیح زبان رکھنے والے منافق سے امت کے لیے شدید خطرے کا ذکر ہے۔ پیغام میں برطانوی مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ہوشیار رہیں اور ایسے فریبی عناصر سے معاشرے اور مذہب کو محفوظ رکھیں۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مولوی حکیم کی ویڈیوز پر شدید تنقید، اخلاقی اقدار کی پامالی

ندیم راٹھور نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ یہ ہے کہ جاہل لوگ ایسے افراد کی پیروی کرتے رہیں گے، کیونکہ پیر کی طاقت اس کے مرید کی جہالت اور کمزور ایمان سے جڑی ہوتی ہے۔ شیراز غفور نے اس پوسٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ بطور مسلمان ہمیں آگاہی پھیلانی چاہیے اور کمزور و معصوم لوگوں کو ایسے افراد کا شکار بننے سے بچانا چاہیے۔ شاہزاد ملک نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے لوگ ویزے کیسے حاصل کر لیتے ہیں اور جو انہیں ویزے دلواتے ہیں، وہ بھی ذمہ دار ہیں، جبکہ یورپی ممالک میں ایسے معاملات کے باعث سخت قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں مجموعی طور پر اس امر پر زور دیا جا رہا ہے کہ مذہب کے نام پر دھوکہ دینے والوں کے خلاف اجتماعی شعور بیدار کیا جائے اور لوگوں کو قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی طرف رہنمائی دی جائے۔

مزید خبریں