سوشل میڈیا کے چٹ پٹے تبصرے، شہباز کو بچا لیا گیا، وسیم قادر کے پیچھے سازش

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) لاہورسے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ نومنتخب آزاد رکن قومی اسمبلی وسیم قادر کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پرسوشل میڈیا پر بھی بھرپور ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے۔

لاہور کے حلقہ این اے 121 سے سینیئر لیگی رہنما شیخ روحیل اصغر کو شکست دینے وسیم قادر پی ٹی آئی لاہور کے جنرل سیکرٹری اور سابقہ ’لیگی‘ تھے۔

وسیم قادرنے 2018 مین ن لیگ کو خیر باد کہتے ہوئے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی، اس وقت انہیں پی ٹی آئی کا جنرل سیکرٹری لاہورمقررکیا گیا تھا۔

حالیہ انتخابات سے قبل پارٹی سے بلے کا انتخابی نشان چھن جانے کے انہوں نے پی ٹی آئی کی حمایت کے ساتھ آزاد حیثیت سے الیکشن لڑتے ہوئے شیخ روحیل اصغر کو تقریبا 8 ہزارکی لیڈ سے شکست دی۔

وسیم قادر نے گزشتہ رون لیگ کی سینئرنائب صدرو چیف آرگنائزرمریم نواز سے ملاقات میں پارٹی قائد نوازشریف پرمکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حلقے کے عوام اور دوستوں کی مشاورت سے (ن) لیگ میں شامل ہو رہا ہوں۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی بھرپور ردعمل دیکھنے میں آیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی حمایت یافتہ شاہنوازجدون پرپارٹی چھوڑنے کیلئے دبائو

مسلم لیگ ن کے سابق رہنما مفتاح اسماعیل نے وسیم قادرکے ن لیگ سے جانے اور پھر واپسی کے تناظر میں لکھا، ’ یہ تب بھی غلط تھا ، اب بھی غلط ہے۔’

مفتاح اسماعیل کے مطابق، ’اخلاقیات کے بغیر سیاست بےمعنی ہے۔‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے اس حوالے سے ایکس پوسٹ میں وسیم قادر کی ن لیگ میں شمولیت کو ’گھر واپسی‘ قرار دیا۔

نصرت جاوید نے لکھا کہ ، ’سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ کیا انہیں پی ٹی آئی کے وفاداروں کو لاہور میں ’امن و امان کا منظر‘ پیدا کرنے کے لیے اکسانے کے مکروہ ارادے سے تبدیلی کی قیادت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا؟‘

سینیئر صحافی طلعت حسین نے اپنے دلچسپ تجزیے میں کہا کہ ، ’عمران کی جس لہر نے نواز شریف کے تگڑے حلقوں کو تباہ کیا وہ کراچی، حیدر آباد بلکہ پورے سندھ اور بلوچستان کو نظرانداز کر گئی‘۔

طلعت حسین نے مزید لکھا کہ، ’ ظالم نے صرف نواز کے قریبی ساتھیوں کو اڑایا۔ شہباز کی کابینہ کے تمام ممبران اس کے شر سے محفوظ رہے۔ یعنی پی ڈی ایم 2 بن گئی او نواز-4 کو فارغ کر گئی۔ تالیاں۔’

دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وسیم قادر کی شمولیت پرردعمل میں کہا کہ وسیم قادر سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، یہ اچھی روایت نہیں کہ جن کی سپورٹ سے منتخب ہو کر آئے، انہیں چھوڑ کر کسی ااور جماعت میں چلے جائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ کچھ لوگ وفاداریاں تبدیل کریں گے۔

واضح رہے کہ نومبر 1963 میں لاہور میں پیدا ہونے والے وسیم قادر پیشے کے اعتبار سےتاجر ہیں، انہوں نے 1989 میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور پہلی بار 2008 کے عام انتخابات میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔وسیم قادر تقریباً 20 سال ناروے میں بھی مقیم رہے۔