جیل میں ملاقات کیلئے کن مسائل کاسامناکرناپڑتا ہے؟علیمہ خان اورقیصرہ الٰہی نے بتادیا

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)پاکستانی جیلوں میں مختلف جرائم میں قید حوالاتیوں سے ملاقات کیلئے آنے والے رشتہ داروں خصوصا ان کی خواتین کو بہت زیادہ مسائل کا سامناکرنا پڑتا ہے۔

ایسے حالات سے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ اور صدر پی ٹی آئی پرویز الہیٰ کی اہلیہ بھی گزررہی ہیں جنہیں ملاقات کے موقع پر ناصرف انتہائی زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ انتہائی مختصر سی ملاقات میں حال احوال پوچھنے کا ہی موقع مل سکتا ہے۔


اس حوالے سے ایک انٹرویومیں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بتایا کہ انہیں اڈیالہ جیل میں قید عمران خان سے ملاقات کیلئے بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ہفتے میں ایک روز25منٹ کی ملاقات کرائی جاتی ہے جوکہ ناکافی ہے،علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو اے یا بی کلاس میں نہیں بلکہ چکی یعنی ایک چھوٹے سیل میں رکھا گیا ہے۔

علیمہ خان نے بتایا کہ ان کے سیل میں ایک گدا، ایک رضائی اور ٹی وی موجود ہے جبکہ پاکستان کے پہلے اور واحد نائب وزیراعظم اور سابق وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی نے بھی یہی دعوی کیا۔


اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو ماضی میں ایسے اقدامات کی روک تھام کے لئے کوئی کام نہیں کیاگیا نہ ہی اس طرف کسی نے توجہ دی ہے ،خود عمران خان ملک کے ساڑھے تین سال تک وزیراعظم رہے مگر انہوں نے بھی اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جس سے لگے کہ ملاقات کے لئے آنے والی ایسی خواتین کو جن مسائل کا سامنا اب کرنا پڑرہا ہے ایسے دن نہ دیکھنے پڑتے۔


ماہرین کہتے ہیں کہ اس بارے میں قانون سازی اب وقت کی ضرورت بن چکی ہے کیونکہ جیلوں میں قید اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے آنے والی خواتین کے ساتھ ایسے سلوک کی نہ اسلام ہمیں اجازت دیتا ہے نہ اخلاقیات۔


ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہم اس اقدام کے ادارک کے لئے کیا قدم اٹھا سکتے ہیں۔


امید ہے نئی آنیوالی حکومت ان حالات وواقعات کا سنجیدہ نوٹس لے گی اور اس حوالے سے ٹھوس اور منظم منصوبہ سازی کے ساتھ ساتھ قانون سازی بھی کی جائیگی تاکہ مستقبل میں سیاستدانوں کو اگر جیل میں وقت گزارناپڑے تو ان کی ملاقاتی خواتین کو ایسے کسی مسائل کا سامنا نہ کرناپڑے جو آج کے دور میں خواتین کر رہی ہیں۔