لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ کی سیاسی جماعت ریفارم یو کے کے ارکان اور امیدواروں کے مبینہ نسل پرستانہ اور اسلام مخالف بیانات سامنے آنے کے بعد جماعت کی قیادت کو سخت سوالات کا سامنا ہے۔ آئی ٹی وی کی ایک سالہ خفیہ تحقیقات میں تارکین وطن کو حراستی کیمپوں میں رکھنے، مسلمانوں کی برطانوی شناخت پر سوال اٹھانے اور ایشیائی برادری کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
تحقیقات میں ریفارم یو کے کے ایک ممکنہ پارلیمانی امیدوار جیسن پاول کو یہ کہتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا کہ مسلمان اور برطانوی بیک وقت نہیں ہو سکتے۔ اسی تحقیق میں جماعت سے وابستہ بعض دیگر شخصیات کے ایشیائی باشندوں اور پاکستانی پس منظر رکھنے والے افراد سے متعلق متنازع بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔
ریفارم یو کے کے رہنما ضیا یوسف کا پاکستان سے متعلق مؤقف
ریکنارڈ کے مطابق، ریفارم یو کے کے رہنما اور امورِ داخلہ کے ترجمان ضیا یوسف نے پاکستانی شہریوں سے متعلق بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ جماعت کی سرکاری ویب سائٹ پر شائع بیان میں انہوں نے برطانیہ میں بچوں کے جنسی استحصال کے ایک مجرم شبیر احمد کو پاکستان واپس بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ویزا پابندیوں، پابندیوں اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کی دھمکی دی تھی۔
برطانیہ میں بچوں کے کونسے روایتی خاندانی نام ٹاپ 10 میں شامل؟ فہرست سامنے آگئی
تاہم، کسی فرد کے جرم کو پوری پاکستانی یا ایشیائی برادری سے منسوب کرنا درست نہیں۔ بچوں کے جنسی استحصال جیسے سنگین جرائم کی تحقیقات اور ذمہ داروں کو سزا دینا ضروری ہے، لیکن اس بنیاد پر پوری قوم یا مذہبی برادری کے بارے میں عمومی رائے قائم کرنا تعصب کو ہوا دے سکتا ہے۔
آئی ٹی وی کی تحقیق نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے کہ ریفارم یو کے میں امیدواروں کی جانچ پڑتال کس حد تک مؤثر ہے۔ جماعت نے کہا ہے کہ نسل پرستی کی اس میں کوئی جگہ نہیں، جبکہ بعض ارکان کے خلاف تحقیقات اور تادیبی کارروائیوں کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔











