جمعه,  16 اکتوبر 2026ء
امن کا نوبل انعام 2026 جیتنے والی خاتون کی ’’ٹرمپ پر کڑی تنقید‘‘

واشنگٹن (روشن پاکستان نیوز) رواں برس امن کا نوبل انعام جیتنے والی خاتون نوی پلئی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی مسلسل دوسری بار امن کا نوبل انعام نہ ملنے کے غم سے نکلے بھی نہ تھے کہ رواں برس نوبل پیس پرائز جیتنے والی خاتون نوی پلئی نے ٹرمپ کر تنقید کے نشتر برسا دیے اور اس کی وجہ بنی ہے امریکی صدر کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر عائد کی گئی پابندیاں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نوی پلئی نے ٹرمپ کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر عائد کی گئی پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ٹرمپ کو بین الاقوامی قانون کا سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

نوبل انعام یافتہ 85 سالہ نوی پلئی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اپنے قانونی مشیروں کو بلاؤ تاکہ وہ تمہیں سمجھائیں کہ بین الاقوامی قانون کیا ہوتا ہے‘‘ اور ہم ایک آزاد بین الاقوامی عدالت کے کام میں ان کی مداخلت کو غیر قانونی کیوں کہتے ہیں۔

واشنگٹن میں عشایئے میں فائرنگ کے واقعے سے صدمہ ہوا، جان کر خوشی ہوئی صدر ٹرمپ،خاتونِ اول خیریت سے ہیں: وزیر اعظم

اقوامِ متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نوئی پلئی نے مزید کہا کہ ان کے نوبل انعام جیتنے کے چند گھنٹے بعد ہی عدالت پر امریکی پابندیوں کا اعلان ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ یہ صدر ٹرمپ کو انعام نہ دیے جانے کا ردِ عمل تھا۔

انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اصلاحات کی ٹرمپ کی بات کو محض ایک سفارتی تاویل قرار دیا اور مزید کہا کہ امریکی صدر جو چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس بات کا وعدہ لیا جائے کہ امریکی شہریوں کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا جن کا مقصد اس کے روزمرہ کے امور کو مفلوج کرنا ہے۔ یہ عدالت افراد پر جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات کے تحت مقدمات چلاتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالت کے ججوں کی طرف سے غزہ جنگ کے پس منظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر برہم ہو کر اسے اینٹ سے اینٹ بجا کر ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ یہ پابندیاں عدالت کے تکنیکی اور بنکاری امور پر اثر انداز ہوں گی اور چھ ماہ بعد نافذ العمل ہوں گی۔

مزید خبریں