واشنگٹن(روشن پاکستان نیوز) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیاں چھٹے ہفتے میں داخل ہو گئی ہیں اور صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ ان حملوں کا بنیادی ہدف ایران کے میزائل پروگرام، فضائی دفاعی نظام، اسٹیل انڈسٹری اور کمانڈ ڈھانچے کو کمزور کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم متعدد شہری تنصیبات بھی متاثر ہوئی ہیں جن میں اسکول، جامعات، ہسپتال، پانی کے ذخائر، بجلی گھر، ثقافتی ورثہ اور پل شامل ہیں۔
ایران نے اب بھی اپنی بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیت برقرار رکھی ہوئی ہے اور وہ مختلف علاقائی اہداف، بشمول اسرائیل، پر جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں کی گئی بلکہ ایران ایک محدود نظام کے تحت مخصوص ممالک کے جہازوں کو جانچ پڑتال کے بعد گزرنے کی اجازت دے رہا ہے، جسے مبصرین “ٹول سسٹم” قرار دے رہے ہیں۔
ادھر امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھا دی ہے۔ 31ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ USS Tripoli پر تعینات ہے جبکہ 11ویں میرین یونٹ بھی خطے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے تقریباً 2 ہزار اہلکار فوری ردعمل کے لیے تعینات کیے گئے ہیں، تاہم ابھی تک کسی بڑے زمینی آپریشن کا آغاز نہیں کیا گیا۔
اگر زمینی کارروائی ہوئی تو ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ واپس نہیں جائے گا، ایرانی فوج
حالیہ جھڑپوں میں ایک امریکی F-15E طیارہ جنوبی ایران میں گرایا گیا جس میں ایک اہلکار کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ اسی طرح ایک A-10 طیارہ آبنائے ہرمز کے قریب تباہ ہوا لیکن اس کا پائلٹ محفوظ رہا۔
امریکہ کے اندر بھی اس جنگ کے حوالے سے سیاسی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے کئی اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا یا ریٹائر کر دیا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور جنگی حکمت عملی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس نے ممکنہ تحقیقات کا عندیہ دیا ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی رپورٹ ہو رہی ہے۔ مزید برآں نیٹو کے کئی اتحادی ممالک، جن میں اٹلی، جرمنی، اسپین اور فرانس شامل ہیں، نے ایران سے متعلق بعض امریکی آپریشنز کے لیے اپنی فضائی حدود اور اڈے فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
سفارتی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔ امریکہ کی جانب سے مختصر جنگ بندی کی پیشکش ایران نے تحریری طور پر قبول نہیں کی، جبکہ اسلام آباد میں متوقع اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی آگے نہیں بڑھ سکے۔ ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے چند شرائط پیش کی ہیں جن میں حملوں کا مکمل خاتمہ، مستقبل میں عدم جارحیت کی ضمانت، نقصانات کا ازالہ اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا احترام شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خلیجی تعاون کونسل کی حمایت یافتہ ایک تجویز کو روس، چین اور فرانس نے بعض نکات پر مسترد کر دیا ہے۔
مجموعی طور پر خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور جہاں ایک طرف فوجی کارروائیاں جاری ہیں، وہیں سفارتی کوششیں بھی کسی واضح پیش رفت کے بغیر تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔











