منگل,  24 مارچ 2026ء
ایک طرف محبت، دوسری طرف نفرت: عید ہمیں کیا سکھاتی ہے؟

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) دنیا کے مختلف حصوں میں عیدالفطر نہایت عقیدت، خوشی اور بھائی چارے کے ساتھ منائی گئی۔ برطانیہ میں ایک برطانوی خاتون کی جانب سے اپنے مسلمان پڑوسیوں کو عید کے تحائف پیش کرنے کا خوبصورت عمل سامنے آیا، جس نے محبت، احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال قائم کی۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انسانیت، ہمدردی اور رواداری وہ اقدار ہیں جن کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

تاہم اسی دوران ایک افسوسناک واقعہ بھی برطانیہ میں پیش آیا جہاں عید کی نماز کے بعد دو پاکستانی خاندان آپس میں جھگڑ پڑے۔ اس لڑائی میں بچے، بچیاں، نوجوان اور بزرگ سب شامل تھے، جس سے عید جیسے مقدس موقع کی روح مجروح ہوئی۔

یہ دونوں متضاد واقعات ہمیں ایک اہم سوال کی طرف لے جاتے ہیں: عید ہے کیا؟ اسلام ہے کیا؟

عید صرف نئے کپڑے پہننے، میٹھے پکوان بنانے یا رسمی مبارکباد دینے کا نام نہیں۔ عید دراصل صبر، شکر، قربانی اور دوسروں کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا پیغام ہے۔ اسی طرح اسلام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو ہمیں برداشت، اخلاق، احترام اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔

ایک طرف غیر مسلم خاتون کا محبت بھرا رویہ ہے جو اسلام کی اصل تعلیمات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے، جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کا آپس میں لڑنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں اپنی بنیادی اقدار سے دور ہو رہے ہیں۔

عید کے چاند سے متعلق عدالت میں انوکھی درخواست دائر

علمائے کرام کے مطابق عید کا اصل پیغام دلوں کو جوڑنا، رنجشیں ختم کرنا اور ایک دوسرے کو معاف کرنا ہے۔ اگر ہم ان تعلیمات کو نظر انداز کریں تو عید کی خوشیاں محض ظاہری رسم بن کر رہ جاتی ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم اپنے رویّوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور سوچیں کہ کیا ہم واقعی اسلام کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں یا صرف نام کے مسلمان رہ گئے ہیں۔ کیونکہ اصل عید وہی ہے جہاں دل صاف ہوں، رویّے نرم ہوں اور معاشرہ محبت اور امن کا گہوارہ بن جائے۔

مزید خبریں