اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) خلیجی ممالک میں کام کرنے والے پاکستانی نہ صرف اپنے خاندانوں کا سہارا ہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی ایک مضبوط ستون ثابت ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، کویت اور بحرین سمیت مختلف خلیجی ریاستوں میں لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر وطن بھیجتے ہیں جو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور معیشت کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے وائس چیئرمین عدنان پراچہ کے مطابق پاکستان کی مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 50 فیصد حصہ خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت دنیا بھر میں پاکستانی ورک فورس کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے، جن میں سے 50 فیصد سے زیادہ خلیجی ریاستوں میں کام کر رہی ہے۔
پاکستان میں تیز انٹرنیٹ فائیوجی کے نئے دور کا آغاز
ان کے مطابق سعودی عرب پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑی منزل ہے جہاں تقریباً 27 سے 28 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورک فورس کی تعداد تقریباً 16 لاکھ کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ قطر، عمان، کویت اور بحرین میں بھی بڑی تعداد میں پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 55 سے 60 لاکھ پاکستانی خلیجی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔
عدنان پراچہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال تقریباً ساڑھے 7 لاکھ پاکستانی بیرون ملک روزگار کے لیے گئے جن میں سے سوا 5 لاکھ صرف سعودی عرب روانہ ہوئے۔ پاکستانی ورک فورس میں زیادہ تر افراد ان اسکلڈ، سیمی اسکلڈ اور اسکلڈ کیٹیگری سے تعلق رکھتے ہیں اور خلیجی ممالک میں ان کی طلب زیادہ ہے۔
انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو مشورہ دیا کہ وہ میزبان ممالک کے قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط برتیں تاکہ کسی مشکل صورتحال سے بچا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت بیرون ملک روزگار کے عمل کو مزید آسان بنائے کیونکہ گزشتہ دو برسوں میں بیرون ملک جانے کی لاگت میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور اندرونی بدعنوانی کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔
عرب نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران بڑی تعداد میں پاکستانی روزگار کے لیے بیرون ملک گئے۔ اس عرصے میں 38 ہزار سے زائد ڈرائیور، 3 ہزار 474 ٹیکنیشن، 2 ہزار 130 الیکٹریشن اور 1 ہزار 859 میسن مختلف ممالک روانہ ہوئے۔ اس کے علاوہ 1 ہزار 689 باورچی، 1 ہزار 479 انجینئر اور 1 ہزار 58 ویلڈر بھی بیرون ملک ملازمت کے لیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق پیشہ ور افراد میں 849 ڈاکٹر، 436 اساتذہ اور 390 نرسز بھی شامل ہیں، جبکہ زیادہ تر پاکستانی ورکرز کا رخ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان کی جانب ہوتا ہے جہاں تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور سروس سیکٹر میں پاکستانی ورک فورس کی طلب زیادہ ہے۔











