اتوار,  22 فروری 2026ء
ایران امریکی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا، صدر مسعود پزشکیان کا دوٹوک اعلان

تہران(روشن پاکستان نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تہران کو اس کے جوہری پروگرام پر معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے محدود حملوں پر غور کر رہے ہیں۔

ہفتے کے روز ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان نے کہا کہ ان مشکلات میں سے کسی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔

’عالمی طاقتیں بزدلی کے ساتھ ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جس طرح آپ مشکلات کے سامنے نہیں جھکے، ہم بھی ان مسائل کے آگے نہیں جھکیں گے۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں آیا جب خلیج میں کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا نے اپنے فوجی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہوئے 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور درجنوں جنگی طیارے خطے میں تعینات کر دیے ہیں۔

ایران اور امریکا نے رواں ماہ کے اوائل میں عمان میں بالواسطہ جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کیے تھے اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور بھی ہوا۔

اگرچہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت قرار دیا، تاہم کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو کہا کہ سفارتی حل ہماری پہنچ میں ہے اور ایران اگلے 2 سے 3 دن میں معاہدے کا مسودہ حتمی شکل دے کر واشنگٹن کو بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دو راہے پر کھڑے ممالک

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک ایک بار پھر اہم موڑ پر کھڑے ہیں اور تہران کے شہری سفارتی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تہران میں ایک خاتون کا کہنا تھا کہ جنگ کے بارے میں کون فکر مند نہیں ہوگا۔ ’اگر ہم اپنے لیے فکر نہیں کرتے تو اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ضرور فکر کرتے ہیں۔‘

ایک تاجر کا مؤقف تھا کہ فوجی تصادم آخرکار ناگزیر ہو سکتا ہے کیونکہ امریکا ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جسے ایرانی ریاست قبول نہیں کرے گی۔

ایران جانے کی کوشش کرنے والے 50 افغان باشندے گرفتار

’اگر ایسا ہوا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے، کاروبار پہلے ہی سست ہے۔‘

دوسری جانب ایک شہری نے زیادہ پرامید مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ امریکا جانتا ہے کہ وہ ایران کو زیر نہیں کر سکتا۔ اس نے افغانستان، عراق یا ویتنام میں حقیقی فتح حاصل نہیں کی۔

’آخرکار اسے ایران کے سامنے جھکنا پڑے گا، لوگوں کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔‘

ماضی کی کشیدگی اور فوجی تیاری

گزشتہ سال بھی ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات ہوئے تھے، تاہم جب اسرائیل نے ایران پر حملے کیے اور 12 روزہ جنگ چھڑ گئی تو یہ عمل منقطع ہو گیا۔

بعد ازاں امریکا نے فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر بمباری میں حصہ لیا۔

جنوری میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف ایرانی کریک ڈاؤن کے بعد ٹرمپ نے نئی فوجی دھمکیاں جاری کیں۔

تہران نے جواباً خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے اور خلیج کی تیل برآمدات کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دی۔

2003 کے بعد سب سے بڑی فضائی طاقت

امریکی میڈیا کے مطابق خطے میں جمع کی جانے والی امریکی فضائی طاقت 2003 میں عراق پر حملے کے بعد سب سے بڑی ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 120 سے زائد طیارے تعینات کیے ہیں، جبکہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز یوایس ایس جیرالڈ فورڈ  پہلے سے بحیرۂ عرب میں موجود یوایس ایس ابراہام لنکن کے ساتھ شامل ہونے کے لیے روانہ ہے۔

ایران نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خط میں خبردار کیا کہ اس فوجی اجتماع کو ’محض بیان بازی‘ نہ سمجھا جائے

خط میں کہا گیا کہ ایران کشیدگی یا جنگ کا خواہاں نہیں اور نہ ہی جنگ کا آغاز کرے گا، تاہم کسی بھی امریکی جارحیت کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔

جمعرات کو صدر ٹرمپ نے اپنے بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں کہا تھا کہ اگر کوئی بامعنی معاہدہ نہ ہوا تو بری چیزیں ہوں گی۔

بعد ازاں ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس زیادہ سے زیادہ 10 سے 15 دن ہیں۔

جمعہ کو ایک صحافی کے سوال پر کہ آیا مذاکرات کے دوران امریکا محدود فوجی کارروائی کر سکتا ہے، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اس پر غور کر رہے ہیں۔

بعد میں انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو منصفانہ معاہدہ کرنا چاہیے۔

علاقائی جنگ کے خدشات کے پیش نظر سوئیڈن، سربیا، پولینڈ اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے ایران میں مقیم اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

مزید خبریں