کراچی (روشن پاکستان نیوز) ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم ہمیشہ اگر مگر کا شکار رہی ہے تاہم ایک عنصر ایسا ہے جو قومی ٹیم کے لیے ہمیشہ خوش بخت رہا ہے۔
ماضی کی روایت دہراتے ہوئے پاکستان آج ایک بار پھر ٹورنامنٹ میں برقرار رہنے کے لیے نمیبیا کے خلاف ڈو آر ڈائی کی حیثیت اختیار کر جانے والا میچ کھیل رہی ہے۔
پاکستان کو اگر اپ سیٹ شکست ہوتی ہے تو گرین شرٹس کو پہلے ہی مرحلے میں ورلڈ کپ سے باہر ہو کر خالی ہاتھ گھر جانا پڑ سکتا ہے۔ تاہم خدشات کے ساتھ ایک بڑی امید وہ خوش بختی ہے، جو جب رونما ہوئی پاکستان کے لیے اچھی خبر لائی۔
رواں ٹی 20 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا پہلے ہی راؤنڈ میں میگا ایونٹ سے باہر ہو گیا۔ یہ بے شک کینگروز کے لیے صدمہ ہے مگر پاکستان کے لیے ہمیشہ یہ خوش بختی کی علامت رہا ہے۔
پاکستان کیخلاف میچ سے قبل بھارتی کرکٹ ٹیم کو بڑا دھچکا
اس بار بھی آسٹریلیا کے پہلے راؤنڈ سے باہر ہونے پر سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ جب جب آسٹریلوی ٹیم آئی سی سی میگا ایونٹ کے ابتدائی راؤنڈ میں باہر ہوئی تب تب پاکستان وہ ٹورنامنٹ جیتا ہے۔
اگر کرکٹ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ بات حقیقت بھی نظر آتی ہے۔
پاکستان نے اپنی اولین آئی سی سی ٹرافی 1992 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں جیتی۔ عمران خان کی قیادت میں جیتے گئے ورلڈ کپ میں آسٹریلوی ٹیم راؤنڈ روبن (پہلے ہی راؤنڈ) میں ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی۔
سال 2009 میں جب پاکستان آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کا چیمپئن بنا، تب بھی آسٹریلیا کی ٹیم گروپ مرحلے میں ایک بھی کامیابی حاصل کیے بغیر ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی۔
گرین شرٹس نے سرفراز احمد کی قیادت میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی پہلی بار جیتی اور حیران کن بات یہ ہے کہ اس ٹورنامنٹ میں بھی کینگروز کی ٹیم گروپ مرحلے میں ہی دم توڑ گئی تھی۔
تاہم اس کا دوسرا رخ دیکھیں تو آسٹریلوی ٹیم 1979 اور 1983 کے ورلڈ کپ میں بھی گروپ مرحلے میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی تاہم دونوں ایونٹس میں پاکستان کو سیمی فائنل میں شکست ہوگئی تھی۔
قارئین کے لیے یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ 2013 کی چیمپئنز ٹرافی میں آسٹریلیا کے ساتھ ساتھ خود پاکستان بھی گروپ مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا۔











