دو حرف / رشید ملک
میں کسی رنج و الم میں روتے ہوئے دیدہ نم سے جو قطرے گراتا تھا وہ جواہرات گراں قدر یاقوت وصدف بنتے تھے مگر یہ کیا کہ آج اتنی بے بسی ہے انکھ کا پانی خشک ہو چکا ہے چشم نم کی یہ خشکی ایک دقیقے ساعت یا لمحے اور دن کی بات نہیں کئی سال اس کے پیچھے اور کئی سانحے اس کا موجب بنے ہیں۔ چند روز قبل ایام کے شاہ یوم جمعہ کو اسلام آباد وفاقی دارالحکومت کے گنجان آباد علاقے ترامڑی میں خدیجہ الکبری کے نام سے منسوب انتہائی خوبصورت مسجد اور متصل امام بارگاہ میں دل دہلا دینے والا سانحہ گزرا کہ کوشش کے باوجود میری آنکھوں سے نمی نہ ٹپکی اور پہلی مرتبہ میں نے رنجیدگی کے عالم میں خود کو اس قدر بے بس پایا۔ میری آنکھ سے گرنے والے آنسو یعقوب وصدف اور یمن کے لعل نہ بن سکے بے بسی سی بے بسی ہے روئیں تو کس کو روئیں کوسیں تو کس کو کوسیں ہر طرف بے بسی ہے لاپرواہی ہے لاچارگی ہے۔ خدیجۃ الکبری کے نام سے منسوب اس مسجد میں سانحہ یہ گزرا کہ جمعہ کو انتہائی شوق اور ذوق سے لوگ اپنے پروردگار کے حضور الصلوۃ جمعہ کے تحت جبین عجز کو سجدہ کی صورت میں جھکانے کے لیے بہت بڑی تعداد میں جمع تھے کہ عین اس وقت جب تاخیر سے آنے والے نماز کی ادائیگی کے لیے تکبیر کی صدا سن چکے اور جبین کے سجدے کے لیے جگہ کی تلاش میں کونوں کھدروں پر بھی نظر دوڑا رہے تھے اور مسجد کی بالائی منزل کی طرف بھی دوڑ رہے تھے کہ ایک بد بخت بزدل اور قبیح خیالات سے آراستہ ایک وحشی درندہ صفت خود کش بمبار اپنے جسم سے کئی کلو بارود باندھ کر مسجد کے اندر گھس آیا اور خود کو خودکش بارود سے اڑا دیا،جس کے نتیجے میں 31 کے قریب ہنستے مسکراتے ابدان پر سجی ہوئے پوشاکوں کو ہلکی اور سوندی خوشبوؤں سے معطر کیے ہوئے کچھ لمحے پہلے جیتے جاگتے انسان لقمہ اجل بن گئے۔ یہی نہیں تقریبا اس واقعہ میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے جن میں بعض شدید زخمی ہیں مرنے والوں کو اللہ فردوس بری میں اعلی مقام عطا فرمائے زخمیوں کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازے سانحہ گزر چکا مگر ایک بحث آج بھی کانوں کو ٹکرا ٹکرا کر اس کے پردوں کو یوں چھوتی ہے جیسے کوئی بھاری ودان سے موم کے پہاڑوں کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بے بسی اور لاچاری اتنی کہ سامنے مرنے والوں کو تڑپتے ہوئے اجسام کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ بے بسی اور بے حسی اس قدر کہ زخمیوں کو معالجے کی سہولتیں فراہم ہیں اور نہ مطلوبہ لہو کی تھیلیاں دستیاب ہیں۔ پمز اور پولی کلینک ہسپتالوں مین کہرام بپا ہے۔اطلاعات یہ ہیں کہ مرنے والوں میں وفاقی دارالحکومت کے پولیس سربراہ کے کزن بھی شامل ہیں۔ میرے آفس کولیگ کے ایک پھوپھا بھی مقام شہادت پر فائز ہوئے جبکہ ان کے ماموں سمیت فیملی کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ خودکش حملہ آور یہاں تک کیسے پہنچا سیکیورٹی اگرچہ پچھلے کئی مہینوں سے نہیں بلکہ دہائیوں سے چوکس ہے پھر بھی یہ درندہ صفت خودکش حملہ آور دارالحکومت کے اس گنجان آباد علاقے کی مسجد میں پہنچ کر اس قبیح عمل کا عملدار بنتا ہے۔ ہمیں یہ بھی پوچھنا ہے یہ خودکش حملہ آور کہاں سے ایا کس نے بھیجا اس کے ذہن میں جنت کا نقشہ اور حصول دستیابی کا خواب اور خیال اس بد کند خیالی سے کس نے آراستہ کیا۔سوالات ایسے ہیں کہ کوئی ان کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں سوشل میڈیا پر ٹی وی چینلز اور اخبارات کے صفحات پر حملہ آور کے جانور نما سر کو دکھا دکھا کر حکام ایسی گفتگو فرما رہے ہیں کہ اللہ پناہ مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ابھی تک بد نسل بدکار خودکش حملہ آور کو تیار کرنے والے اس کے جسم کے ساتھ بارود باندھ کر سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غم خوار اور انتہائی وفادار رازدار نبوت،زوجہ مطہرہ حضرت خدیجۃ الکبری کے نام سے منسوب مسجد میں بھیجنے والے گروہ کا کوئی پتہ نہیں چلایا جا سکا؟سمجھ نہیں آتی کیا سوال کیا جائے کس سے جواب مانگا جائے؟مملکت خداداد کیا کوئی چیلنج بن چکی ہے؟ارباب اختیار اور ذمہ داران کچھ فرصت کے لمحے اگر نکال کر اس پر توجہ کریں تو شاید کوئی ذرا سی سوچ ذرا سا خیال اس کی قدر و منزلت کو اجاگر کر دے؟بے وقعت حقیر پسے ہوئے بے بس انسانوں کی اہمیت کو کوئی شناخت دے دے؟سانحہ ترامڑی کا نوحہ لکھنا میرے بس سے باہر ہوتا جا رہا ہے میں جو لکھنا چاہتا ہوں لکھ نہیں پا رہا جو کہنا چاہتا ہوں وہ کہہ نہیں پا رہا میں رونا چاہتا ہوں میری آنکھیں خشک ہیں۔ میرے دیدوں کا پانی نہ جانے پتلیوں کے بند کو کیوں کر توڑ نہیں پا پارہا؟میں حیران ہوں کہ خداوند ایسی بے بسی،ایسی لا چاری،ایسی بےچارگی پہلے تو کبھی نہ دیکھی۔ پھر دل نے یہی گواہی دی کہ اے بندہ ناچیز دست دعا بلند کر اور پروردگار سے چیخ چیخ کر التجا گزار کہ اے میرے اللہ اس ملک کو اپنی حفاظت میں رکھ اس کے بسنے والوں کو اپنے حصار تحفظ کے اندر پناہ دے ملک اور قوم کے بد خواہوں کو غرق اور برباد کر دے کہ شاید یہی میرے آنسو ہیں میں اس سے آگے کچھ بھی بیان کرنے کی سکت سے عاری ہوں میں روتا ہوں تو آنسو نہیں آتے اور یہ آنسو اب یاقوت ،صدف اور یمن کے لعل نہیں بنتے کہ شاید یہی سانحہ ترامڑی ہے پروردگارا ہم سب کا حامی و ناصر تیرے سوا کون ہے ہماری مدد فرماآمین۔











