جمعه,  06 فروری 2026ء
اسلام آباد ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر خودکش دھماکہ، 32 شہید، 172 شدید زخمی
اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نماز جمعہ کے دوران خودکش دھماکا ، 31 افراد شہید ، 150 زخمی

 

اسلام آباد (محمد زاہد خان)اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ پر خودکش دھماکہ، 32 شہید، 172 شدید زخمی تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع امام بارگاہ قصر خدیجۃ الکبری میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش بم دھماکے نے پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد موقع پر ہی شہید جبکہ 172 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دراز علاقوں تک سنی گئی، جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور ہر طرف چیخ و پکار سنائی دینے لگی۔ عینی شاہدین کے مطابق خودکش حملہ آور مرکزی دروازے پر اپنے آپ کو اس وقت دھماکے سے اڑایا جب امام بارگاہ میں نمازِ جمعہ کا اجتماع جاری تھا اور بڑی تعداد میں نمازی موجود تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں امام بارگاہ کے مرکزی ہال کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ چھت اور دیواروں کو بھی نقصان پہنچا اطراف میں کھڑی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور مام بارگاہ کی اندرونی عمارت کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ کئی افراد شہید ہو گئے، جنہیں مسجد سے شفٹ کرنے کے لیے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ دھماکے کے فوراً بعد جائے وقوعہ پر قیامت صغریٰ کا منظر دیکھنے میں آیا۔ زخمی مدد کے لیے پکارتے رہے جبکہ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو نکالنے میں ریسکیو اہلکاروں کا ساتھ دیا۔ ریسکیو 1122 کی درجنوں ایمبولینسوں نے زخمیوں کو قریبی سرکاری و نجی ہسپتالوں میں منتقل کیا، جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق متعدد زخمیوں کی حالت نازک ہے، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی آپریشنز اسلام آباد پولیس، ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے۔ سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے مشتبہ افراد کی چیکنگ کی گئی۔

ایف سی ہیڈ کوارٹر خودکش دھماکہ: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق ہوگئی

آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر وفاقی دارالحکومت میں فوری طور پر ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور شہر بھر میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حساس مقامات، عبادت گاہوں، تعلیمی اداروں، سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ اور فرانزک ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر موجود ہیں، جو دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد اور شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔ ابتدائی طور پر دھماکے کی نوعیت کو خودکش قرار دیا گیا ہے، تاہم حتمی نتائج فرانزک رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور حملے میں ملوث عناصر کو جلد بے نقاب کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

واقعے کے بعد شہر بھر میں سوگ کی فضا قائم ہے، جبکہ شہریوں نے اس بزدلانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم جانوں کے قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔

مزید خبریں