بدھ,  04 فروری 2026ء
پاکستان کی سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت میں توسیع کی درخواست

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)  پاکستان نے سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت کو مزید ایک سال کے لیے بڑھانے کی باضابطہ درخواست کر دی ہے، جبکہ کریڈٹ پیریڈ کو ایک سال سے بڑھا کر دو سال یا اس سے زیادہ کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی معاشی ٹیم اور سعودی حکام کے درمیان بات چیت جاری ہے، جس کے جلد حتمی شکل اختیار کرنے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت فروری 2026 تک مؤثر ہے، جس کے تحت پاکستان کو ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ معاہدے کے مطابق فروری 2026 میں آخری قسط موصول ہوگی، جبکہ مارچ 2026 سے پاکستان کو قرض کی واپسی شروع کرنا ہوگی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی قیادت سے درخواست کی ہے کہ تیل کی سہولت کو جاری رکھا جائے تاکہ بیلنس آف پیمنٹ پر دباؤ کم کیا جا سکے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے۔

اسی سلسلے میں پاکستان کی معاشی ٹیم کا ایک اہم وفد سعودی عرب میں موجود ہے، جو دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے سعودی سرمایہ کاروں سے مختلف منصوبوں پر بات چیت کر رہا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس پاکستان کے پاس موجود ہیں، جن میں سے 2 ارب ڈالر کی مدت دسمبر 2025 میں مکمل ہونے پر ایک سال کے لیے رول اوور کر دی گئی ہے، جبکہ باقی 3 ارب ڈالر جون 2026 میں میچور ہوں گے، جن کی مدت میں توسیع پر مذاکرات جاری ہیں۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کے رول اوور میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں اور مقررہ وقت پر توسیع متوقع ہے۔ سعودی فنڈز فار ڈویلپمنٹ کے تحت پاکستان کو ہر ماہ 10 کروڑ ڈالر کی فراہمی جاری ہے۔

پاکستان کے توانائی کے شعبے میں سنگِ میل: چین کے فاملنک پاور ٹیکنالوجی گروپ کی بھاری سرمایہ کاری کا آغاز

ذرائع کے مطابق موجودہ معاہدے کے تحت پاکستان کو ایک سال میں مجموعی طور پر 1.2 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔ یہ سہولت آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی پروگرام کا بھی حصہ ہے، جس کا مقصد بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کمی لانا ہے۔

باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے فوری طور پر درخواست کی منظوری نہیں دی اور مزید غور کے لیے وقت مانگا ہے۔ مذاکرات کے دوران سعودی حکام نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، پائیدار معاشی ترقی اور استحکام پر زور دیا، جبکہ سرمایہ کاری کے متعدد مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

حکومت پاکستان نے سعودی عرب کے مسلسل اقتصادی تعاون کو سراہا، جبکہ سعودی حکام نے پاکستان میں ادارہ جاتی اصلاحات کی کوششوں کی تعریف کی۔ دونوں ممالک نے سرمایہ کاری اور کاروباری شراکت داری کے وسیع امکانات کا اعتراف کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر سعودی عرب نے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت میں توسیع کی منظوری دے دی تو رواں سال پاکستان کو مزید 1.2 ارب ڈالر موصول ہوں گے اور یہ سہولت فروری 2027 تک جاری رہے گی۔

مزید خبریں