لندن(روشن پاکستان نیوز) برطانیہ میں جنسی جرائم کی شرح ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہے، جہاں روزانہ اوسطاً 588 جنسی جرائم رپورٹ ہو رہے ہیں۔ برطانوی دفتر برائے قومی شماریات (او این ایس) کے مطابق، ستمبر تک سال بہ سال 2 لاکھ 14 ہزار 816 جنسی جرائم کے کیسز درج کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔
او این ایس کے اعداد و شمار کے حوالے سے برطانوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ملک میں منشیات فروشی اور دکانوں سے چوری کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنسی زیادتی، بالخصوص عصمت دری کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں ایسے کیسز میں بھی تقریباً 8 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ تازہ ریکارڈ کے مطابق 74 ہزار سے زائد جنسی زیادتی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جو یومیہ تقریباً 600 واقعات کے برابر بنتے ہیں۔ سال 2003 میں یہ تعداد 57 ہزار تھی۔
مزید پڑھیں: لندن: برطانیہ میں پاکستانیوں کی جانب سے ہم جنس پرستی کی بنیاد پر سیاسی پناہ کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ
اسی طرح چوری کی وارداتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم میں 38 فیصد اضافہ کے ساتھ 75 ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے ہیں۔ منشیات رکھنے کے جرائم میں 15 فیصد اضافہ کے بعد تقریباً ڈیڑھ لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق سال بھر میں 83 ہزار کے قریب ڈکیتی کی وارداتیں بھی ریکارڈ کی گئیں، جس پر ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔











