جمعرات,  29 جنوری 2026ء
مشی خان کی سابق وزیرعظم عمران خان کے مبینہ غیر انسانی سلوک پر شدید مذمت، انسانی حقوق کی پامالی پر سوالات
مشی خان کی سابق وزیرعظم عمران خان کے مبینہ غیر انسانی سلوک پر شدید مذمت، انسانی حقوق کی پامالی پر سوالات

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز): معروف پاکستانی اداکارہ اور ٹی وی میزبان مشی خان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ سلوک پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ مشی خان نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ عمران خان کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی ظالمانہ اور غیر انسانی ہے، اور یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کہاں کھڑے ہیں۔

مشی خان نے کہا کہ “عمران خان پر یہ انتہا درجے کا ظلم کیوں کیا جا رہا ہے؟ ہمیں رحم کرنا سیکھنا ہوگا، مزید ظلم بند کیا جائے”۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کس طرح سابق وزیراعظم کو بغیر اہلِ خانہ اور وکلا کو اطلاع دیے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا گیا اور ان کا علاج کرایا گیا، جو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو اپنی بہنوں اور اہلِ خانہ سے ملنے کی اجازت دی جائے اور ان کے ساتھ ایک سیاسی قیدی کے بجائے ایک انسان کی طرح سلوک کیا جائے۔ مشی خان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات پاکستان کے عدالتی اور انسانی حقوق کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔

دنیا کے مقبول ترین کھلاڑیوں کی فہرست وائرل، عمران خان پاکستان کے مشہور کھلاڑی قرار

دوسری جانب، میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان کو ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب سخت سیکیورٹی میں پمز ہسپتال لایا گیا۔ ڈان اخبار کے مطابق ایک سینئر ڈاکٹر نے بتایا کہ عمران خان کو ایک طبی عمل کے لیے لایا گیا تھا جو کئی گھنٹوں تک جاری رہا، جبکہ اس دوران آپریشن تھیٹرز اور اینستھیزیا روم کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم ایک اور ڈاکٹر نے اس حوالے سے بات کرنے سے گریز کیا۔

اس سے قبل شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں عمران خان کی صحت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے ڈاکٹرز کو براہِ راست عمران خان کا معائنہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق رپورٹس میں عمران خان کو آنکھ کی ایک سنگین بیماری لاحق ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے، جس پر تشویش فطری ہے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی سے منسلک متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی عمران خان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ مشی خان نے اپنے پیغام میں زور دیا کہ اختلافات اپنی جگہ، مگر کسی کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ریاست کو اس رویے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔

مزید خبریں