لاس ویگس(روشن پاکستان نیوز) برٹش ایئرویز کے ایک طیارے کو اس وقت ایک غیر معمولی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا جب لاس ویگاس، امریکا سے ٹیک آف کے دوران اس کا ایک ٹائر الگ ہو کر گر گیا۔ اس واقعے کے باوجود طیارے نے طویل فضائی سفر کے بعد برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر بغیر کسی جانی نقصان کے محفوظ لینڈنگ کی۔ ایوی ایشن حکام کے مطابق جدید طیارے اس طرح کے ہنگامی حالات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیے جاتے ہیں اور پائلٹس کو ایسی صورتحال سے نمٹنے کی خصوصی تربیت دی جاتی ہے، جس کے باعث مسافروں کی جانیں محفوظ رہیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ تکنیکی مسائل کسی بھی بڑی عالمی ایئر لائن کے ساتھ پیش آ سکتے ہیں اور یہ کسی ایک ملک یا ادارے تک محدود نہیں ہوتے۔
اس واقعے کے تناظر میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کے ساتھ پیش آنے والا ایک سابقہ واقعہ بھی یاد آتا ہے، جب لینڈنگ کے دوران طیارے کا ٹائر پھٹ گیا تھا۔ اس وقت پاکستانی عوام اور سوشل میڈیا پر پی آئی اے انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس نے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ قومی سطح پر مایوسی اور عدم اعتماد کو بھی جنم دیا۔ حالانکہ دنیا بھر میں ایوی ایشن انڈسٹری میں ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر صورتوں میں حفاظتی نظام اور عملے کی مہارت بڑے حادثات کو ٹال دیتی ہے۔
پی آئی اے ملازمین کیلئے بڑی خوشخبری!
بدقسمتی سے پاکستان میں قومی اداروں کے ساتھ رویہ اکثر سخت اور منفی نظر آتا ہے۔ پی آئی اے جو کبھی پاکستان کی پہچان اور فخر سمجھی جاتی تھی، عوامی حمایت کی کمی، مسلسل تنقید اور منفی تاثر کے باعث کمزور ہوتی چلی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر پاکستانی عوام اور متعلقہ حلقے ادارے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اس کی حمایت بھی کرتے تو ممکن تھا کہ پی آئی اے کی کارکردگی بہتر ہوتی اور اسے نجکاری جیسے فیصلوں تک نہ جانا پڑتا۔ قومی ایئر لائن صرف ایک تجارتی ادارہ نہیں بلکہ ملک کی شناخت اور سافٹ امیج کی نمائندہ بھی ہوتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جب کسی قومی یا نجی ایئر لائن کو تکنیکی مسئلے کا سامنا ہوتا ہے تو وہاں تحقیقات ضرور کی جاتی ہیں، اصلاحات بھی لائی جاتی ہیں، مگر ادارے کو مکمل طور پر تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنانے کے بجائے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا رویہ اپنایا جاتا ہے۔ یہی فرق اداروں کی مضبوطی اور کمزوری کا باعث بنتا ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار صرف حکومت پر نہیں بلکہ عوام کے طرزِ فکر اور رویے پر بھی ہوتا ہے۔
یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ تکنیکی خرابیاں انسانی صنعت کا حصہ ہیں، اصل امتحان یہ ہوتا ہے کہ ان سے کیسے نمٹا جاتا ہے اور معاشرہ اپنے اداروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ اگر ہم صرف تنقید، طنز اور مایوسی کو فروغ دیتے رہیں گے تو ہمارے ادارے مزید کمزور ہوں گے، جبکہ مثبت تنقید، اصلاح کی کوشش اور اجتماعی حمایت ہی کسی بھی قومی ادارے کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں اور یہ فیصلہ کریں کہ ہم اپنے اداروں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں یا انہیں تنقید کے بوجھ تلے مزید گرانا چاہتے ہیں۔










