بدھ,  28 جنوری 2026ء
پاکستان میں سیاسی اور سماجی گراوٹ: عوامی مفاد اور ثقافتی آزادی سے متعلق خطرات

اسلام آباد(شہزاد انور ملک) پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سیاسی، سماجی اور اخلاقی سطح پر گراوٹ واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ دنیا جہاں تیزی سے ترقی کر رہی ہے، ٹیکنالوجی، تعلیم، انفراسٹرکچر اور عوامی خدمات میں نئے معیار قائم کر رہی ہے، وہیں پاکستان میں سیاست آج بھی پرانی روایتوں، ذاتی مفادات اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے رویوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ عوامی فلاح اور حقیقی مسائل کی بجائے سیاسی نمائش، تنازعہ اور دوغلا رویہ حکمران طبقے کی پہچان بن چکا ہے۔

حالیہ واقعات اس گراوٹ کی واضح مثال ہیں۔ خیبر پختونخوا حکومت نے پرائیویٹ نمبر پلیٹس کی نیلامی میں سیاسی جماعتوں کے سربراہان کے نام استعمال کیے، اور یہ پلیٹس مہنگے داموں فروخت ہوئیں۔ ایک طرف صوبائی حکومت نے دیگر سیاسی جماعتوں سے اختلافات ظاہر کیے، تو دوسری طرف ان کے سربراہان کے نام سے رقم کمانے کی کوشش کی گئی۔ یہ اقدام عوامی اعتماد کے لیے سوالیہ نشان ہے اور اس پر تنقید یہ کہہ کر کی جا رہی ہے کہ یہ دوغلی سیاست ہے، جہاں حکومت اپنی پوزیشن کو فروغ دینے کے لیے دوسروں کے نام اور ساکھ کا استعمال کرتی ہے۔

سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری

اسی دوران پنجاب حکومت نے صوبے میں بسنت منانے کی اجازت دی اور ایس او پیز کے تحت اس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کارکنان نے سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں جن میں پتنگوں پر عمران خان کی تصاویر تھیں۔ اس پر پنجاب حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا کہ پتنگوں پر کسی بھی سیاسی رہنما کی تصویر نہیں ہونی چاہیے۔ اس اقدام پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ حسد، بغض یا سیاسی خوف کی عکاسی نہیں کرتا؟ عوام کی اپنی رائے اور ثقافتی اظہار پر پابندی لگانا جمہوری رویہ نہیں، اور یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا ریاست عوام کی سوچ اور ثقافتی آزادی پر قابو پا سکتی ہے؟

اسی حوالے سے بسنت کی تاریخی اور سماجی حیثیت بھی اہم ہے۔ پچھلے کئی سالوں میں پتنگ بازی کی وجہ سے کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، خاص طور پر موٹرسائیکل سوار شہریوں کے گلے کٹنے کے واقعات نے اسے خطرناک بنا دیا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی حفاظت کرے، مگر ساتھ ہی ثقافتی تقریبات اور عوامی اظہار کی آزادی کو بھی مدنظر رکھے۔ اگر صرف سیاسی دلائل کی بنیاد پر پابندیاں لگائی جائیں تو یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ عوامی اعتماد کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ حالات پاکستان میں سیاسی اور سماجی رویوں کی خرابی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں عوامی مفاد، شفافیت اور ثقافتی آزادی اکثر سیاسی کھیل اور ذاتی مفادات کی قربانی بنتے ہیں۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے، لیکن یہاں سیاست کی بنیادیں اب بھی ذاتی مفادات، دوغلے رویوں اور عوامی رائے کی توہین پر قائم ہیں۔ اس صورت حال میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ حقیقی جمہوری اور شفاف نظام قائم کرے، عوامی حفاظت یقینی بنائے اور سیاسی تنازعات کے بجائے عوام کی فلاح کو ترجیح دے۔

مزید خبریں