بدھ,  28 جنوری 2026ء
سحر کامران کا بل مسترد ہونے پر اظہار ناراضگی، نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ ملک میں نوجوانوں میں منشیات کا استعمال تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے، حالیہ رپورٹس کے مطابق یونیورسٹی کے طلبہ میں 44 فیصد تک منشیات استعمال کرتے ہیں، جبکہ 18 سے 31 سال کی عمر کے 17 ملین افراد نشے کے عادی ہیں۔ این ایف نے خبردار کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں لاکھوں نوجوان اب بھی نشے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

سحر کامران نے کہا کہ ان کا “کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینسز (ترمیمی) بل 2025” قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے داخلہ نے مسترد کر دیا، جو کہ انتہائی افسوسناک اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے نقصان دہ فیصلہ ہے۔ یہ بل تعلیمی اداروں میں داخلے کے وقت رضا کارانہ منشیات کی اسکریننگ، والدین اور طلبہ کی مکمل رضامندی کے ساتھ، اور لازمی مشاورت اور علاج فراہم کرنے کا جامع نظام پیش کرتا تھا۔

پنجاب پولیس میں کانسٹیبل کی بھرتی سے متعلق اہم فیصلہ جاری

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بل میں ڈیٹا کی رازداری کے مکمل انتظامات شامل تھے اور صرف مجاز حکومتی اہلکار ہی اس تک رسائی حاصل کر سکتے تھے۔ سحر کامران نے کہا کہ وفاقی قانون کے تحت منشیات پر کنٹرول ایک مربوط اور یکساں قومی ذمہ داری ہے اور کسی صوبائی اختیارات کو بہانہ بنانا قابل قبول نہیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام اور ارکان اسمبلی سے اپیل کی کہ اس بل پر دوبارہ غور کیا جائے اور اسے منظور کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کے نقصانات سے بچایا جا سکے۔

مزید خبریں