پیر,  26 جنوری 2026ء
دنیا بھر میں بہت بڑا سائبر طوفان، تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے صارفین متاثر

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)  ائبر سیکیورٹی کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ انٹرنیٹ پر ایک غلط کنفیگر شدہ کلاؤڈ ڈیٹا بیس کے باعث تقریباً 14 کروڑ سے زائد صارفین کے فیس بک، انسٹاگرام، جی میل اور دیگر آن لائن اکاؤنٹس کا حساس ڈیٹا لیک ہو گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق غیر محفوظ ڈیٹا بیس معروف سائبر سیکیورٹی محقق جیریمیا فاؤلر نے دریافت کیا۔ جن کے مطابق اس ڈیٹا بیس میں تقریباً 96 گیگابائٹس پر مشتمل معلومات موجود تھیں۔

لیک ہونے والے ڈیٹا میں یوزر نیم، پاس ورڈز، ای میل ایڈریسز اور مختلف آن لائن سروسز سے منسلک اکاؤنٹس کی تفصیلات شامل ہیں۔

تحقیقات کے مطابق متاثرہ اکاؤنٹس میں 48 ملین جی میل، 17 ملین فیس بک، 6.5 ملین انسٹاگرام۔ 3.4 ملین نیٹ فلکس، 7 لاکھ 80 ہزار ٹک ٹاک۔ 4 لاکھ 20 ہزار بائنانس اور ایک لاکھ اونلی فینز اکاؤنٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لاکھوں یاہو، آؤٹ لک، آئی کلاؤڈ اور تعلیمی اداروں کے ای میل اکاؤنٹس بھی اس ڈیٹا لیک سے متاثر ہوئے۔

ماہرین کے مطابق یہ معلومات کسی ایک کمپنی کے سسٹم ہیک ہونے کی وجہ سے نہیں۔ بلکہ مختلف ذرائع سے اکٹھی کی گئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ ایک مخصوص وائرس متاثرہ موبائل فونز اور کمپیوٹرز میں داخل ہو کر براؤزر میں محفوظ پاس ورڈز۔ لاگ اِن تفصیلات اور دیگر حساس ڈیٹا چراتا ہے۔ جو بعد ازاں ہیکرز تک منتقل کر دیا جاتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے۔ کہ اس نوعیت کے ڈیٹا لیکس کے نتیجے میں اکاؤنٹس کے غلط استعمال، مالی فراڈ۔ شناخت کی چوری اور جعلی پیغامات بھیجنے جیسے سنگین خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ خاص طور پر ان صارفین کے لیے جو مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ امن کے داعی ہیں، ایران نے حملہ کیا تو سخت جواب دیا جائے گا، پینٹاگون حکام

ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں۔ دو مرحلہ جاتی تصدیق (Two-Factor Authentication) فعال کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر اپنے اکاؤنٹس کی نگرانی جاری رکھیں۔

مزید خبریں