اتوار,  11 جنوری 2026ء
فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی G-15/3 متاثرین کے ساتھ انصاف کرے فضل انجینئرنگ کا مطالبہ

اسلام آباد(روشن پاکستان نیوز)فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کے سیکٹر G-15/3 سے متاثرہ کمرشل پراپرٹی کے مالکان نے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کر دیا ہے۔ فضل انجینئرنگ کے مالک محمد اعظم فضل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باقاعدہ رجسٹرڈ، باقبضہ اور کمرشل رجسٹری ملکیت پراپرٹی، جو مین جی ٹی روڈ پر واقع ہے، کو بغیر کسی پیشگی اطلاع کے 2009 کے گوگل سروے کی بنیاد پر ایوارڈ کر دیا گیا، حالانکہ اس وقت زمین مالکان کو نہ تو مطلع کیا گیا اور نہ ہی کسی محکمے کا عملہ موقع پر آیامحمد اعظم فضل نے بتایا کہ مذکورہ کمرشل پراپرٹی ان کی اور ان کے مرحوم بھائی محمد اکرام فضل کی مشترکہ ملکیت ہے، جہاں وہ سن 2001 سے کاروبار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے قبل راولپنڈی لیہ ایکسپریس وے (جناح روڈ) منصوبے سے بھی متاثر ہوئے، جہاں انہیں نہ ہونے کے برابر معاوضہ ملا، جس کے بعد انہوں نے قانونی طور پر یہ کمرشل زمین خرید کر کاروبار کا آغاز کیاانہوں نے کہا کہ فضل انجینئرنگ 1962 سے کاروبار سے وابستہ ہے، ٹیکس گزار ہے اور راولپنڈی اسلام آباد چیمبر آف کامرس کا رکن بھی ہے۔ اس کے باوجود آج تک ان کی پراپرٹی کو BUP نمبر الاٹ نہیں کیا گیا اور انہیں مسلسل دفاتر کے چکر لگوائے گئے، جبکہ انہیں یہی یقین دہانی کرائی جاتی رہی کہ ان کی زمین G-15/3 کی حدود سے باہر ہےمحمد اعظم فضل نے الزام عائد کیا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی اور سی ڈی اے کی جانب سے بار بار نوٹس بھیج کر ذہنی دباؤ، ہراسانی اور بلیک میلنگ کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے وہ اور ان کا خاندان شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیںانہوں نے کہا کہ ان کی کمرشل پراپرٹی مکمل طور پر قانونی ہے، جس کی رجسٹری، انتقال اور دیگر تمام دستاویزات موجود ہیں۔ ہاؤسنگ اتھارٹی بعد میں بنی، جبکہ وہ اس جگہ پر پہلے سے کاروبار کر رہے تھے۔ ان کے مطابق ان کا تقریباً 15 سے 18 ہزار اسکوائر فٹ کورڈ ایریا بنتا ہے، جس کا باقاعدہ تخمینہ لگا کر موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ دیا جانا چاہیےمحمد اعظم فضل نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر احمد، وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی, وفاقی وزیر ہاؤسنگ میاں ریاض حسین پیرزادہ اور چیف کمشنر اسلام آباد و چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے اپیل کی ہے کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں ان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمرشل رجسٹری ملکیت پراپرٹی کا 2026 کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق معاوضہ دیا جائے،متبادل کمرشل پلاٹ فراہم کیا جائے،مشینری اور کاروبار کی منتقلی کے لیے کم از کم تین سال کا وقت دیا جائےانہوں نے کہا کہ ان کی پراپرٹی اور کاروبار ہی ان کے خاندان کی روزی روٹی کا واحد سہارا ہیں، جس سے کروڑوں روپے کی گڈوِل وابستہ ہے۔ “ہم اسی ملک کے شہری ہیں، ہم کوئی غیر قانونی قابض نہیں۔ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، مگر ہمارے ساتھ مسلسل ناانصافی کی جا رہی ہےہم ریاست کا احترام کرتے ہیں اور صرف اپنا آئینی اور قانونی حق مانگ رہے ہیں

مزید خبریں