اتوار,  11 جنوری 2026ء
سوشل میڈیا پر نازیبا مواد اور اخلاقی اقدار کا زوال
میٹا نے فیس بک اور انسٹا گرام کیلئے مشترکہ سپورٹ ہب متعارف کرا دیا

اسلام آباد (روشن پاکستان نیوز) سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں ایک نازیبا ویڈیو کے وائرل ہونے نے پاکستانی معاشرے میں ایک سنجیدہ بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ویڈیو میں استعمال ہونے والی زبان اور جملے نہ صرف اخلاقی اقدار کے منافی ہیں بلکہ ہمارے سماجی اور مذہبی تشخص پر بھی سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ان جملوں کو کھلے عام دہرایا جا رہا ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر انہیں تفریح یا مذاق کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو ایک گہری اخلاقی گراوٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ سوال بار بار اٹھایا جا رہا ہے کہ ہمارے مسلمان معاشرے کی حیا، غیرت اور تہذیبی حدود کہاں گم ہو گئی ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جو کبھی شرافت، لحاظ اور باہمی احترام کی پہچان سمجھا جاتا تھا، آج غیر ذمہ دارانہ مواد کے باعث بدنامی کا شکار ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا، خصوصاً ٹک ٹاک، پر وائرل ہونے کی دوڑ نے نوجوان نسل کو اس حد تک متاثر کیا ہے کہ شہرت اور لائکس کے حصول کے لیے اخلاقیات کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔

ٹک ٹاک پر بننے والے کئی رجحانات نوجوانوں کو غیر ضروری دوستیوں، ملاقاتوں اور غیر مناسب رویوں کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ والدین کی عدم توجہی، تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت کی کمی اور سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بدقسمتی سے، نازیبا مواد پر تنقید کے بجائے اسے آگے پھیلایا جاتا ہے، جس سے برائی کو روکنے کے بجائے تقویت ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرے کو اس صورتحال سے نکالنے کے لیے صرف تنقید کافی نہیں بلکہ اجتماعی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، تعلیمی ادارے کردار سازی کو نصاب کا حصہ بنائیں اور ریاستی ادارے سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کے خلاف مؤثر اقدامات کریں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ بطور فرد ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم جو دیکھ رہے ہیں، شیئر کر رہے ہیں یا بول رہے ہیں، وہ ہماری اقدار اور شناخت کے مطابق ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا سونا جعلی نکلا ،10 لاکھ شرط بھی ہار گئے

اگر معاشرے نے بروقت اصلاح کی طرف قدم نہ بڑھایا تو اس طرح کے واقعات اور مواد نہ صرف ہماری نوجوان نسل کو مزید گمراہ کریں گے بلکہ ہماری اجتماعی ساکھ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اخلاقیات، حیا اور احترام کو دوبارہ اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔

مزید خبریں