تحریر: وقار نسیم وامق
دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور یہ تعداد محض اعداد و شمار نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے مگر اس ہجرت کی اصل کہانی روزگار کی تلاش سے کہیں زیادہ گہری اور پیچیدہ ہے۔
بیرونِ ملک جانے والا ہر پاکستانی ایک سپاہی کی طرح ایسے محاذ پر قدم رکھتا ہے جو بظاہر خاموش ہے مگر حقیقت میں ایک مسلسل جدوجہد کا میدان ہے۔ یہ محاذ عسکری سرحدوں سے مختلف ضرور ہے مگر اس کے تقاضے کم نہیں۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں اور انہی کی طرح اوورسیز پاکستانی بھی اپنے حصے کی قربانیاں جذباتی، معاشی، قانونی اور سماجی دباؤ کی صورت میں دیتے ہیں جو حکومتی پالیسیوں کی کمزوریوں کے باعث مزید سخت ہو جاتی ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی محض محنت تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل جدوجہد ہے جس میں وقت کی تنگی، حالات کی سختی، تنہائی کی چبھن، جدائی کا بوجھ اور معاشی ذمہ داریوں کا دباؤ شامل ہے۔ ان کی محنت، صبر اور قربانی ہی ان کا اصل سرمایہ ہے۔ وہ اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں۔ ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر پاکستان پہنچتی ہیں مگر اس کے باوجود ان کی خدمات کا اعتراف رسمی بیانات سے آگے نہیں بڑھتا۔
اصل مسئلہ اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب یہ سپاہی اپنے وطن واپس آتے ہیں۔ یہاں انہیں وہ عزت، سہولت اور شناخت نہیں ملتی جس کے وہ حقیقی مستحق ہیں۔ انہیں فارنر یا اجنبی کی فہرست میں رکھنا ایک ایسی انتظامی ناانصافی ہے جو ان کی دہائیوں کی خدمات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ وہ تارکینِ وطن ضرور ہیں مگر پاکبان ہیں اپنے وطن کے محافظ اور اپنی معیشت کے معمار ہیں۔
ایک پاکستانی شہری کے بچے کو اپنے ہی ملک میں غیر ملکی تصور کرنا پالیسی سازی کی سنگین خامی ہے جسے بہرحال درست کیا جانا چاہئے۔ اس کی تازہ مثال میڈیکل کالجز میں اوورسیز پاکستانیوں کے کوٹہ میں کمی اور فارنرز کے برابر فیس مقرر کرنا ہے جو کہ ساٹھ ہزار روپے سے بڑھا کر دس ہزار ڈالر کر دی گئی ہے جو نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ قومی شعور کے بھی خلاف ہے۔ یہ فیصلہ اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے بچے پاکستانی شناخت رکھتے ہیں، پاکستانی پاسپورٹ رکھتے ہیں اور ان کا تعلق اسی مٹی سے ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کے لئے قانونی اور انتظامی رکاوٹیں بھی ایک الگ محاذ ہیں۔ موبائل فون رجسٹریشن پر بھاری فیسیں، اثاثہ جات کی درآمد پر پیچیدہ ضوابط، بینکنگ کے قوانین اور سرکاری دفاتر میں عدم تعاون یہ سب مسائل ان کے لئے ایسی جنگ بن جاتے ہیں جو انہیں اپنے ہی وطن میں نہیں لڑنی چاہیے۔ حیرت انگیز طور پر وہی شخص جو بیرونِ ملک پاکستان کا سفیر سمجھا جاتا ہے وطن واپس آتے ہی ایک اجنبی کے طور پر ٹریٹ کیا جاتا ہے۔
اوورسیز محاذ کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہاں لڑنے والا سپاہی کبھی مکمل طور پر وطن واپس نہیں آتا۔ چند دن کی چھٹی بھی اس کے لئے سکون نہیں لاتی کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی اسے دوبارہ اسی محاذ پر لوٹ جانا ہے جہاں اس کی شناخت نہیں بلکہ صرف اس کی محنت کی قیمت ہوتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جسے حکومتی پالیسیوں، حکمتِ عملی اور انتظامی اصلاحات کے ذریعے پُر کیا جا سکتا ہے مگر بدقسمتی سے یہ خلا ہر گزرتے سال کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
بطور قوم ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ اوورسیز پاکستانی صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والے افراد نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں دو حصوں میں تقسیم کر دی ہیں ایک حصہ وطن کے لئے اور دوسرا گھر والوں کے لئے۔ ان کی عزت، ان کی سہولت، ان کے مسائل کا حل اور ان کی رہنمائی قومی ترجیح ہونی چاہیے کیونکہ جو لوگ وطن سے دور رہ کر بھی وطن کے لئے دھڑکتے ہیں وہی اصل قومی سرمایہ ہیں۔
اوورسیز محاذ کے ان خاموش سپاہیوں کو سلام جو اپنے وطن کی معیشت، اپنے خاندان کی امیدوں اور اپنی شناخت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ان کی جنگ جاری ہے ان کا حوصلہ بلند ہے اور ان کی قربانی تاریخ کے سنجیدہ صفحات پر جگہ پانے کی منتظر ہے۔











